حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 101
حقائق الفرقان 1+1 سُوْرَةُ الْبَقَرَة سوالوں سے ظاہر ہوئی ہے اور نہ یہ کوشش کی کہ پہلے ان سوالات کے جوابات کسی متکلم سے سنتے۔اب میں آپ کے آگے آپ کی آنکھ کے آگے یہ رسالہ رکھتا ہوں دیکھئے ! آپ روحانی آنکھ سے کام لیتے ہیں یا نہیں؟ اگر توجہ کی اور کفر چھوڑا تو دیکھ لینا مہر ٹوٹ جائے گی۔بات یہ ہے کہ ایک عام قانون جناب الہی نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے جس سے یہ تمام سوال حل ہو جاتے ہیں اور وہ یہ ہے۔فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمُ (الصف:۲) جب وہ کج ہوئے خدا نے ان کے دلوں کو سچ کر دیا۔یہ بات انسانی فطرت کے دیکھنے سے عیاں ہوتی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے کچھ قو تیں عطا فرما کر ان قوتوں کے دینے کے بعد ان قوتوں کے افعال کے متعلق انسان کو جواب دہ کیا ہے اور انہیں طاقتوں کے متعلق نافرمانی کے باعث انسان عذاب پاتا ہے مثلاً ایک ہوا دار روشن کمرہ کی کھڑکیاں عمدہ طور پر بند کی جاویں تو اس بند کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ کمرہ کے اندر اندھیرا ہو اور کمرہ کی ہواڑک جاوے۔یہ مشل ٹھیک ان اعمال پر صادق آتی ہے جن کا انسان جواب دہ ہے۔اسی طرح آتشک اور خاص سوزاک اُن لوگوں کو ہو گا جو بدی کے مرتکب ہوئے۔پس جب کھڑکیاں کھول دی گئیں اور پورا اور صحیح علاج کر لیا گیا تو کمرہ پھر ہوا دار، روشن اور مریض اچھا ہو جائے گا۔مہریں اسلام کے رُو سے ٹوٹ بھی جاتی ہیں۔اسی واسطے قرآن کریم میں آیا ہے هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَةٍ مِنَ الْهُدى ( البقرة : ۱۸۲) مُہریں ہی ٹوٹیں تو نبی کریم سے لے کر کروڑ در کروڑ آج تک مسلمان ہوئے۔ہاں ! تمہارے مذہب کے رُو سے مہر کا ٹوٹنا ضرور محال ہے کیونکہ اگر مہروں کا ٹوٹنا محال نہیں تو آپ کم سے کم اپنی گا ؤ ماتا کو اس کے بھرشٹ جنم سے چھڑاتے۔ہمیں اسے پنڈتانی بنا کر دکھاؤ تو سہی! اس بیچاری کا جنم صرف سزا ہی بھوگ رہا ہے کاش اس کی مہر ٹوٹتی تو نہ انگریز اسے مارتے اور نہ ہم پر اتنے مقدمات قائم ہوتے۔( نور الدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۳۸ تا ۱۴۱) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَاَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَبْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ۔(البقرة: ۸۷)