حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 48
ستائِش کریں۔اپنے مُحسن کی تعریف کریں۔اس کے لئے دعا مانگیں۔لیکچروں کی ابتدا میں یہی حال ہے ( لیکچر کا ترجمہ خطبہ ہے) بلکہ لیکچر کی خوبی بھی اسلامیوں پر ختم ہے کھڑے ہو کر لیکچر دینا تو ان کی ہر نمازِ جمعہ میں دیکھ لو مگر غور کے قابل یہ ہے کہ عین لیکچر میں جہاں اَور قوموں کو تالی بجانے کا موقع ملتا ہے وہاں اِسلام میں اﷲ اکبر اور سُبحان اﷲ موزوں ہے۔(فصل الخطاب جلد اوّل صفحہ ۳۵،۳۶(ایڈیشن دوم) (۱) دُنیا کے مذاہب پر غور کرنے اور قریباً کُل اقوامِ عالَم کو ایک ہی بڑے مرکز اور مرجع کی طرف بالاِشتراک رجوعکو دیکھنے اور قانونِ قدرت کے معجزبے نقص کتاب کے مطالعہ کرنے سے فطرتِ سلیم، قوّتِ ایمانی نورِ فراست کے اِتفاق سے فوراًشہادت دے اُٹھتی ہے کہ ایک ہمارا خالقِ زمین و آسمان ہے جس کی قدرتِ کاملہ کُل عالَم پر محیط اور تمام اشیاء میں جاری و ساری ہے غرض ایک ہمہ قدرت ، فوق الکُل وجود کا خیال یا اِعتقاد قریباً کُل اقوامِ دُنیا میں پایا جاتا ہے۔یہ فطرت کا اِشتراک اور قوائے باطنیہ کی اضطراری توجّہ ایک اعلیٰ ہستی کی جانب وجودِ باری کی عجیب دِل نشین دلیل ہے۔اب عالَمِ اسباب یا اسبابِ عالم پر جب انسان نظر کرتا ہے تو خوب سمجھتا ہے کہ عالَمِ کون و فساد کے اِنقلابات میں وہ ہمیشہ مجبور معذور ہے اور یہ کہ تمام اختیارات کے مواد اور مقدورات کے اسباب اس کی قدرت سے باہر ہیں۔مثلاً جب دیکھتا ہے کہ بڑے بڑے قوائے طبعی سُورج، چاند، ستارے، ہوا، بادل وغیرہ میرے بے مُزد خدمتگار ہیںبلکہ جب وہ اپنے اسبابِ قریبہ یعنی جسم ہی کو دیکھتا ہے کہ کیسے مناسب آلات اور موافق ادوات اس کو ملے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی مفقود ہو جاوے تو جبر کسر کے لئے اس کا یا اس کے مثل بے نقص جزو کا موجود کرنا اس کے اِمکان سے خارج ہے۔پس یہ تصوّرات اِنسان کے دِل میں ضرور سخت جوش اور عجیب جذبات پیدا کرتے ہیں اور دلی نیاز بڑی شکر گزاری کے ساتھ مِل کراس کو اس منعم و مُحسن کی ستائش و حَمد کی طرف مائل کرتا ہے اور جس قدر زیادہ اس کو اپنی احتیاج و افتقار کا عِلم اور فوق القدرت سامانوں کے بآسانی بہم پہنچ جانے کا یقین ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ اس کا دِل اس منعم کے اِحسانات کی شکر گزاری سے بھر جاتا ہے۔یہی دِلی نیاز اور قلبی شکر گزاری جو سچّی محبت اور باطنی اخلاص سے ناشی ہوتی ہے اور یہی جوش و خروش جو انسان کے دِل میں ہوتا ہے واقعی اور اصلی نماز ہے۔(۲) اِس میں کچھ (شک) نہیں کہ ہمارے ظاہری اقوال و افعال، حرکات و سکنات کا اثر ہمارے