حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 47 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 47

حرکات و سکنات کی تاثیر قلب پر ضرور پہنچتی ہے۔باری تعالیٰ ہی کے دستِ قدرت میں محبوس رہنے کا ثبوت اور اس کی بارگاہ میں بکمال اَدب حاضر ہونے کا بیان اگر ہمارے اعضاء کر سکتے ہیں تو نماز کا قیام اور نماز میں ہاتھ باندھنا بیشک عمدہ نشان ہے۔دِلی عجز و انکسار غایت درجے کا تذلّل اگر کوئی ظاہری نشان رکھتا ہے تو حالتِ رکوع و سجدہ ہرگز کم نہیں۔اِسلامی نماز میں جو کلمات ہیں ان میں صرف باری تعالیٰ کا معبود ہونا اور اس کی رحمتِ عامّہ اورخاصّہ اور سزا اور جزا کا بیان ہے پھر اسی مالک کی عبودیّت کا اِقرار اور اسی کی امداد کا اِعتراف ہے پھر نمازی اپنے اور تمام لوگوں کے لئے راہِ راست پر چلنے کی دعا مانگتا ہے اور بارگاہِ حق میں عرض کرتا ہے مجھے ایسے لوگوں کی راہ دکھا جن پر تیرا فضل ہے اور اُن بُروں کی راہ سے بچا جن پر الہٰی تیرا غضب ہے یا جو لوگ راہ سے بہک گئے۔پھر کچھ الہٰی تعریف کے الفاظ ہیں پھر تمام نیک لوگوں کے لئے دعا ہے پھر واعظِ توحید ابراہیم راست باز پر ( جو تمام بنی اسرائیل اور بنی اسمعٰیل کے مورثِ اعلیٰ ہیں اور جن کی اولاد میں محمدؐ صاحب بھی ہیں ) اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے دعا ہے کیونکہ ان کی مساعی ٔ جمیلہ سے شرک کا بڑا استیصَال ہؤا اور توحید نے عروج پایا۔پھر اپنے لئے دعا ہے۔انسان کا خاصّہ ہے اِس کے دل پر کسی واغط کی نصیحت کا اثر ایک ہی بار کچھ نہیں پڑتا۔اِنسان کے دِل کا زنگ جو اسے محسوسات میں لگائے رکھنے سے پَیدا ہو جاتا ہے ایک دفعہ کے تذکار سے دُور نہیں ہوتا۔قانونِ قدرت میں محسوسات میں زنگ زدہ اشیاء ایک دفعہ کے مصقلہ پھیرنے سے روشن اور چمک دار نہیں ہوتیں۔سورۃفاتحہ بھی بڑی بڑی روحانی بیماریوں کے زنگ کا مِصقلہ تھی اِسی واسطے ایک نماز میں کئی بار پڑھی جاتی ہے۔بتاؤ کون قوم ہے جو مناروں پر چڑھ کر بلند آواز سے کمال دلیری اور جوش سے اپنے معبود اور نہایت ہی بڑائی والے خدا کی عظمت اور اس کے معبود ہونے کی شہادت دے اور اپنے مُحسن ہادی کی رسالت پر شہادت دے۔پانچ وقت مکرّر الفاظ سے اﷲ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بڑی بلند آواز سے منارے پر چڑھ کر بُلاوے اور اپنی عبادت کی خوبی بتلاوے اور پھر اپنی اس منادی کو خدا کی کمال تعظیم پر ختم کرے۔سوچو یہی معنی کلماتِ اذان کے ہیں۔ہاں ہادیٔ اِسلام نے قوم کو گھنٹوں ،سیپوں،ناقوسوں، سارنگیوں، بربطوں سے قوموںمعافی بخشی بلکہ یُوں کہئیے بچا لیا۔یہ اسلامی ہی مذہب کی خصوصیّت ہے کہ اپنی ہر ایک کتاب کی ابتدا میں اپنے خالق کی