حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 49
قلب پر پڑتا ہے یا یُوں کہو کہ جو کچھ ہمارے باطن میں مرکوز ہے حرکاتِ ظاہری ہی اس کی آئینہ دارہیں۔بہت صاف بات ہے کہ اچھا بیج اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔مشاہدہ گواہ ہے کہ جس وقت ہم کسی سچّے دوست یا کِسی بڑے محسن کو دیکھتے ہیں جس کی مہربانیاں اور عطایات ہمارے شامِل حال ہیں تو بے اختیار بشاشت اور طلاقت کے آثار ہمارے چہرہ پر آشکار ہوتے ہیں اور اگر کِسی مخالف طبع مکروہ شکل کو دیکھ پاویں تو فی الفور کشیدگی اور انزجار کا نشان پیشانی پر نمودار ہو جاتا ہے۔غرض اِس سے انکار کرنے کی وجہ نہیں ہو سکتی کہ تمام واردات اور عوارض مثلاًانبساط، انقباض، یاس، رجا، فرحت، غم، محبت،اور عداوت اعضائے ظاہری کو باطنی سمیت یکساں متغیّر و متاثر کر دیتے ہیں۔پس اَب سوچنا چاہیئے کہ جب اس خالق، مالک، رازق، منعم کا تصوّر انسان کے قلب میں گزرے گا اور اس کے عطایات اور نعمتوں کی تصدیق سے اس کا دل و جان معمور ہو جائے گا تو یہ دِلی جوش اور اضطراری ولولہ اس کو ساکن، غیر متحرّک چھوڑ دے گا؟ نہیں نہیں۔ضرور طَوعًا و کرہًا اعضائے ظاہری سے ٹپک پڑے گا۔جَڑ کو صدمہ پہنچے اور شاخوں کو حِس تک نہ ہو غیر معقول بات ہے۔غیر مہذّب اقوام کے مذہبی رسوم کے آزاد دل سے تحقیقات کرو تو عجیب و دِلکش اصول کا مجموعہ تمہیں ملے گا کہ اس اُوپر دیکھنے والی ہستی نے قوائے روحانی کی ابتدائی شگفتگی کے زمانہ میں جس کو زمانۂ حال کے مہذبین زمانۂ جہالت و تاریکی بولتے ہیں۔کِن کِن صورتوں اور رنگوں میں اس فیاض مطلق کی حَمد و سپاس کے قلبی زبردست اثر کو ظاہر کیا ہے۔خارجی بَد آثاری اور عوارض کو چھوڑ دو۔اصلی بے رنگ و بے لَوث فطرت پر غور کرو تو تمہیں دُنیا کی قوموں میں رنگارنگ حرکات دکھائی دیں گے جو بایں ہمہ رنگارنگی کیسے اس بے رنگ کا معبود و مسجود ہونا ثابت کر رہے ہیں۔اس بیان سے صرف اَس قدر مقصود ہے کہ ہر قوم کے نزدیک کوئی نہ کوئی طریق معبود حقیقی کی یاد کا ضرور ہے جس کو وہ لوگ انی نجات کی دستاویز سمجھتے ہیں اور یہ کہ عقائد باطنی کے حسن و قبح کی تصویر اعٌا و جوارح کے آئینے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ہر قوم میں جوشِ قلبی کی تحریک اور اس کی آگ بھڑکانے کے لئے کسی ایک ظاہری اعمال کا التزام پایا جاتا ہے مثلاً بدن کو پانی سے طاہر کرنا، کپڑا صاف رکھنا، مکان لطیف و نظیف رکھنا۔ظاہری صفائی اور حسبِ فطرت اصلاحِ بدن سے بیشک اَخلاق پر قوی اثر پڑتا ہے۔نجاست ، گندگی، ناپاکی، چرک ، غچلاپَن سے کبھی وہ علوّ ہمّت، بلند حوصلگی، پاکیزگی اخلاق پَیدا نہیں ہو سکتی جو واجبی