حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 419
:پہلے کے مطابق یہ مطلب ہے کہ جب تھوڑی سی ربوبیّت کا یہ اثر ہے کہ تم ان کو اپنی طرف بُلاؤ تو تمہاری طرف دوڑتے آتے ہیں تو پھر ربّ الارباب کے بُلانے سے کیوں نہ آئیں گے۔دوسرے معنے کے لحاظ سے یہ مطلب ہے کہ خدا نے ان کو دوسرے عالَم میں زندہ کیا اور یہ کیفیّت کشف میں ابراہیمؑ کو دکھادی۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۶؍مئی ۱۹۰۹ء) جب حضرت خلیل نے جنابِ الہٰی میں عرض کیا کہ کِس طرح پر ویرانی سے آبادی ہو گی تو خدا نے اپنی صفتِ ربوبیّت کی طرف متوجّہ کیا کہ تم چار پرند وں کو پا لو اور انہیں اپنی طرف بُلاؤ۔چلے آئیں گے۔اِسی طرح پر میری ربوبیّت ایسے اسباب مجتمع کر لے گی جو اس بستی کو آباد کر دے۔(تشحیذالاذہان جلد ۷نمبر۷ صفحہ۳۳۳) صُرْھُنَّ اَمِلْھُنَّ نَحْوَکَ مِنَ الصّورای المیل۔پس صُرْھُنَّکے معنی ہوئے اپنی طرف مائل کر لے۔مفردات القرآن اور کتبِ لُغت میں ہے۔حضرت ابراہیمؑ کو ان کے ایک سوال پر اﷲ تعالیٰ نے ایک دلیل بتائی ہے کہ کس طرح مُردے زندے ہوں گے۔اس پر فرمایا: دیکھ ان جانوروں کو جو جسم اور رُوح کا مجموعہ ہیں۔تیری ذرا سی پرورش کے سبب سے تیرے بُلانے پر پہاڑیوں سے تیری آواز سُن کر چلے آئیں گے تو کیا مَیںجو ان کا حقیقی مالک اور رَبّ پرورش کنندہ ہوں میرے بُلانے پر یہ ذرّات حیوان کے جمع نہیں ہو سکیں گے۔اِس نظّارہ اور فعل پر بتاؤ کیا اِعتراض ہے؟ پس ترجمہ آیت کریمہ کا یہ ہؤا۔فرمایا۔پس لے پرندوں سے چار۔پھر ان کو مائل کر لے اپنی طرف یعنی اپنے ساتھ ملا لے۔پھر رکھ پہاڑی پر ان میں سے ایک ایک کو۔پس بُلا ان کو۔تیرے پاس آئیں گے دوڑتے۔(نورالدین( ایڈیشن سوم) صفحہ ۱۷۸،۱۷۹)