حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 420
:ان جنگوں میں ضرورت پڑتی تھی خرچ کی۔پس اسکی ترغیب دی۔یہ بات یاد رکھو کہ انبیاء(الشعراء:۱۱۰)کا اعلان کرنے والے ہیں جو داعی اِلی الحق ہوں۔ان کو کسی اَجر کی ضرورت نہیں۔مَیں خو داپنی طرف دیکھتا ہوں کہ تمہیں درس دیتا ہوں مگر کبھی میرے واہمہ میں بھی نہیں گزرا کہ کوئی اس کے عوض میں مجھے کچھ دے یا سلام تک بھی کرے۔عبدالقادر جیلانی نے کَخَرْدَلَۃٍ عَلٰی حُکْمِ اتِّضَالمیں اپنے پاک دل کا بہت ہی سچّا نقشہ کھینچا ہے کہ احمق لوگوں نے اس کے شِرک آمیز معنے لئے ہیں مگر اصل یہی ہے کہ انہوں نے یہ بتلایا ہے کہ میرے نزدیک دُنیا کی قدر ایک رائی کے دانے کے برابر نہیں مگر دُنیا رائی میں نہیں آ سکتی۔پس خوب یاد رکھو کہ انبیاء جو چندے مانگتے ہیں تو اپنے لئے نہیں بلکہ انہی چندہ دینے والوں کو کچھ دلانے کے لئے۔اﷲ کے حضور دلانے کی بہت سی راہیں ہیں ان میں سے یہ بھی ایک راہ ہے جس کا ذکر پہلے شروع سُورۃ میں مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ (البقرۃ:۴)سے کیا پھر اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ (البقرۃ: ۱۷۸)میں۔پھر اِسی پارہ میں اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰکُمْ (البقرۃ:۲۵۵)سے۔مگر اَب کھول کر مسئلہ انفاق فی سبیل اﷲ بیان کیا جاتا ہے۔انجیل میں ایک فقرہ ہے کہ جو کوئی مانگے تو اسے دے۔مگر دیکھو قرآن مجید نے اِس مضمون کو پانچ رکوع میں ختم کیا ہے۔پہلا سوال تو یہ ہے کہ کسی کو کیوں دے ؟ سو اس کا بیان فرماتا ہے کہ اعلائِ کلمتہ اﷲکے لئے۔خرچ کرنے والے کی ایک مثال تو یہ ہے کہ جیسے کوئی بیج زمین میں ڈالتا ہے مثل باجرے کے پھر اس میں کئی بالیاں لگتی ہیں۔ : بعض مقام پر ایک کے بدلہ دس اور بعض میں ایک کے بدلہ سات سَو کا مذکور ہے۔یہ ضرورت ، اندازہ ، وقت و موقع کے لحاظ سے فرق ہے۔مثلاً ایک شخص ہے دریا کے کنارے پر۔سردی کا موسم ہے۔بارش ہو رہی ہے۔ایسی حالت میں کِسی کو گلاس پھر کر دے دے تو کونسی بڑی بات ہے لیکن اگر ایک شخص کسی کو جبکہ وہ جنگل میں دوپہر کے وقت تڑپ رہا ہے پیاس کی وجہ سے جاں بلب ہو۔مُحرقہ میں گرفتار۔پانی دیدے تو وہ عظیم الشّان نیکی ہے۔پس اِسی قبسم کے فرق کے لحاظ سے اجروں میں فرق ہے۔رابعہ کا ایک قِصّہ لکھا ہے کہ ان کے گھر میں بیس آدمی مہمان آ گئے گھر میں صرف دو روٹیاں تھیں آپ نے اپنی جاریہ سے کہا۔جاؤ کہ یہ فقیر کو دے دو۔اُس نے دل میں کہا کہ زاہد عابدبیوقوف بھی پَر لے درجے