حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 418 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 418

:یہ تیسری مثال بھی جہاد کے متعلق ہے۔مجاہد فی سبیل اﷲ۔جب اﷲ کی راہ میں مارا جاتا ہے تو ضرور اﷲ اس کو ایک حیات بخشتا ہے اور اس پر ایک فضل ہوتا ہے۔وہ اپنے (خدا) سے رزق پاتا ہے۔ابراہیمؑ جو حُنَفاء کے باپ تھے انہوں نے اس نظّارہ کو دیکھنا چاہا کہ اس عالَم میں شہداء کیسے زندہ کئے جاتے ہیں۔کَیْفَسے کسی کا وہم ہو سکتا تھا کہ شاید آپ مانتے نہ تھے اِس لئے اِس وہم کو سوال و جواب کے پَیرائے میں دُور کیا۔:ایمان نہیں؟ :کہا کیوں نہیں۔:شنیدہ کَے بَوَد مانند دیدہ۔دیدا ور شنید میں فرق ہے۔مَیں نظّارۂ قدرت کو دیکھنا چاہتا ہوں۔:چار پرندوں کے لانے کا حکم دیا۔چار کی تعداد اِس لئے مناسب ہے کہ انسان کی بھی چار ہی خلطیں ہوتی ہیں۔صُرْھُنَّ:صُرْ کے عربی میں دو معنے ہیں ایک اپنی طرف مائل کرنا۔ایک شعر یاد آ گیا ؎ و ما میدا الاخلاق فیھم حبلۃ ولٰکن اطراف الریاح تصورھا ابنِ عباسؓ نے بھی اس کے معنے اَمِلْھُنَّکئے ہیں۔اِلٰی کا صِلہ بھی یہی معنے چاہتا ہے۔دوسرے معنے کُچل دینے کے ہیں۔میرے نزدیک کلامِ الہٰی میں جتنی وسعت ہو سکے کرنی چاہیئے۔پس دونوں معنے صحیح ہیں۔