حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 33 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 33

تھے جب آیت نازل ہوتی بڑی احتیاط سے اسی وقت لکھائی جاتی۔۔ابنِ عبّاس ،مجاہد ، سعید، اخفش، ابوعبیدہ نے کہا ہے کہ یہاں پر اِس کے معنے ھذاکے ہیںیعنی اس کا لام ؔدُوری کے لئے نہیں بلکہ تاکید کے لئے ہے جیسا کہ قرآنِ مجیدمیں آیا ہے (اٰلِ عمران: ۵۹)(ترجمہ : یہ وہ ہے جو کہ ہم تیرے پر پڑھتے ہیں) اور پھر فرمایا (اٰلِ عمران: ۶۳)( ترجمہ: بیشک یہ حق بیان ہے)۔تو پہلے قرآنِ مجید یا ایک سُورۃ یا ایک واقعہ کے لئے  لانااور پھر اسی کے لئے وہاں پر ہیلانا صاف دکھاتا ہے کہ اِن دونوں کے ایک ہی معنے ہیں ورنہ ایک چیز ایک ہی وقت میں بعید اور قریب کِس طرح ہو سکتی۔اور ایک دوسری آیتِ کریمہ میں قرآنِ مجید کے لئے بھی آیا ہے جیسا فرمایا  (ص ٓ: ۳۰)یہ کامل کتاب ہے جو ہم نے تیری طرف اُتاری ہے۔تو اِس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ،کے معنوں میں ہے اور فراء نے کہا ہے کہ دُوری کے لئے ہے لیکن دُوری اکثر تو مکانی ہوتی ہے اور کبھی مرتبہ کے لحاظ سے ہوتی ہے اور یہاں پر بھی مرتبہ کے لحاظ سے ہے یعنی وہ عظیم الشّان کتاب جو کہ اپنی عظمت اور رفعت کے لحاظ سے نوعِ انسان سے بہت دُور اور اَرفع ہے جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی نسبت عزیز مصر کی بی بی کا قول نَقل ہے  (یوسف : ۳۳)(یہ وہ عظیم الشّان شخص ہے کہ جس کی نسبت تم مجھے ملامت کرتی ہو)۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان ستمبر ۱۹۰۶ء) ۔ کے معنے ہلاکت۔یعنی کوئی ہلاکت اور شک نہیں عربی زبان میںرَیْب کا لفظ جُھوٹ پر بھی بولا جاتا ہے۔(البدر ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء) ۔پس ایک کتاب جس میں کوئی ہلاکت کی راہ نہیں یا شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔کے دو معنے ہیں شک و شُبہ اور ہلاکت۔اور دونوں ہی یہاںخوب لگتے ہیں۔قرآن کریم میں شک و شُبہ نہیں۔بالکل درست ہے۔اِس کی ساری ہی تعلیم یقینیات پر مبنی ہے ظنّی اور خیالی نہیں۔یا آجکل کی اِصطلاح میں یُوں سمجھ لو کہ قرآنِ مجید میں تھیوریاں نہیں بلکہ بصائر ہیں۔وہ (بنی اسرائیل:۱۰)ہے۔پھر قرآنِ مجید میں ہلاکت کی راہ نہیں۔یہ بھی سچّ ہے کیونکہ اِس میں تو شفاء لِلنّاس ہے۔(بدر ۴ جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ ۴)