حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 32 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 32

 وہ جو کہ سُورۃ فاتحہ میں لوگوں کی طلب کی گئی تھی وہ بتلائی جاتی ہے کہ اگر تم انعاماتِ الہٰی سے بہرہ ور ہونا چاہتے ہو تو یہ ہدایت نامہ جو کہ تم کو دیا جاتا ہے اس پر عمل کرو۔(البدر ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۶) ۔یہ وہ لکھی ہوئی چیز ہے۔لکھی ہوئی اِس لئے فرمایا کہ جب آیت نازل ہوتی تو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم بڑے اہتمام سے اپنے سامنے لکھا لیتے۔دوسری وجہ یہ کہکتیبۃ لشکرکو بھی کہتے ہیں اور جیسے لشکر بہت سے افراد کو اپنے اندر جمع رکھتا ہے اسی طرح یہ کتاب بہت سے مضامین کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے اور جیسے لشکروں سے دشمن بھاگتے ہیں ایسے ہی شبہات انسانیہ اس کتاب کے لشکر سے بھاگ جاتے ہیں اسی لئے فرمایا ذلک الکتب  یعنی یہ ایک ایسی عظیم الشّان کتاب ہے جس کے عظیم الشّان ہونے میں کچھ بھی شک نہیں یا جس میں کسی قِسم کی کوئی شُبہ والی بات نہیں۔پھر میں جو فرمایایہی ایک کتاب ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی آنکھ نے اَور کوئی کتاب نہیں دیکھی جس کو کتاب کہا جا سکے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلّم کے زمانہ میں یہی ایک کتاب تھی جو حقیقی معنوں میںکتاب کہلا سکے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍فروری ۱۹۰۹ء) ۔یہی وہ کتاب ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے اَور کوئی کتاب کتاب کہلانے کی مستحق نہیں۔اس کا ثبوت بنی کریم صلی اﷲ علیہ وسلّم اور آپ کی جماعت نے اپنی عملی حالت سے یُوں دیا ہے کہ جب تک انہوں نے قرآن کی اشاعت نہیں کرلی تب تک کوئی دوسری کتاب بالکل نہیں دیکھی۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلّم نے اس کا اَدب یہ کیا ہے کہ جن امور کے دلائل قرآن شریف نے بیان کئے ہیں ان امور پر آپ نے کوئی سِلسلہ دلائل کا بیان قطعًا نہیں کیا۔۔مکتوب ( مِن اﷲ)۔حدیث میں ہے کہ جب جبرائیل علیہ السّلام قرآن شریف لاتے تو حریر پر لکھا ہؤا ہوتا اور خود رسول کریم صلی اﷲعلیہ وسلم کے پاس کاتب موجود ہوتے