حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 34
۔۔یہ سُورت جس کا نام ہے۔وہ کتاب ہے ( جس کے اُتارنے کا موسٰی علیہ السّلام کی کتاب استثناء کے باب ۱۸ میں وعدہ ہو چکا) اِس میں شک و رَیب کی جگہ نہیں۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور اُن کے جوابات صفحہ ۵۰) ۔میںدُعا مانگی گئی تھی کہ ہمیں راہ ہدایت دکھا۔یہاں منعم علیہم گروہ کا دوسرا نام متّقی رکھ کر فرمایا کہ یہ کتاب ان دعا مانگنے والوں کے لئے موجبِ ہدایت ہے جو اَنْعَمْتَکے مورد بننا چاہتے ہیں یا بن چکے ہیں یا آئندہ بنیں گے سب کے لئے راہنمائی کا قانون ہے۔حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے اِنسان خواہ کیسا متّقی ہو جائے قرآنِ مجید میں اس کی آئندہ ترقی کے لئے سامان موجود ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍فروری ۱۹۰۹ء) مَیںنے دُنیا کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں اور بہت ہی پڑھی ہیں مگر ایسی کتاب دُنیا کی دِلرُبا راحت بخش، لذّت دینے والی، جس کا نتیجہ دُکھ نہ ہو نہیں دیکھی جس کو بار بار پڑھتے ہوئے، مطالعہ کرتے ہوئے اور اس پر فِکر کرنے سے جی نہ اُکتائے، طبیعت نہ بھر جائے اور یا بَد خُو دِل اُکتا جائے اور اسے چھوڑ نہ دینا پڑا ہو۔مَیں پھر تم کو یقین دلاتا ہوں کہ میری عمر،میری مطالعہ پسند طبیعت،کتابوں کا شوق اِس امر کو ایک بصیرت اور کافی تجربہ کی بنا پر کہنے کے لئے جرأت دلاتے ہیں کہ ہرگز ہرگز کوئی کتاب ایسی موجود نہیں ہے اگر ہے تو وہ ایک ہی کتاب ہے۔وہ کونسی کتاب؟ کیسا پیارا نام ہے۔مَیں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے سوا کوئی ایسی کتاب نہیں ہے کہ اس کو جتنی مرتبہ پڑھو جس قدر پڑھو اور جتنا اس پر غور کرو اسی قدر لُطف اور راحت بڑھتی جاوے گی طبیعت اُکتانے کے بجائے چاہے گی کہ اَور وقت اسی پر صَرف کرو۔عمل کرنے کے لئے کم از کم جوش پیدا ہوتا ہے اور دل میں ایمان ، یقین اور عرفان کی لہریں اُٹھتی ہیں۔(الحکم ۱۰؍اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۶) کلمہ طیّبہ۔۔۔۔چارجملے ہیں۔چوتھا جملہ مطلب و غایت ک ادا کرتا ہے اور تیسراجملہ سروپ کو۔دوسرا جملہ مادہ کتاب کو۔تواِن مشاہداتِ ثلاثہ سے یہ پتہ لگا کہ پہلا جملہ اِس کتاب کے متکلّم ومصنّف کا پتہ دیتا ہے۔(نور الدین صفحہ ۲۴۸) متّقی : عجیب در عجیب حواس ملتے ہیں اور ذاتِ پاک سے اس کے خاص تعلّقات ہوتے