حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 346
کتاب ہے تو یہی ہے ) کچھ پرواہ نہیں کی جاتی۔اس میں اِس قدر علوم ہیں کہ شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں کتابیں جمع کرنے کے لئے ۳ کروڑ روپیہ چاہیئے ( یہ ان کے زمانہ کا ذکر ہے، اب تو اِس قدر کتابیں ہیں کہ کئی کروڑ روپے بھی کافی نہ ہوں ) لیکن کئی مسلمان ہیں جو اس کے معمولی معنے بھی نہیں جانتے۔پھر خودپسندی ، خودرائی کا یہ حال ہے کہ نہ قرآن سے واقف ، نہ حدیث سے آگاہ۔نہ حفظِ نفس، حفظِ مال، حفظِ اَعراض کے اصول سے باخبر مگر اپنی رائے کو کلامِ الہٰی پر ترجیح کو تیار۔قرآن کو امام۔مطاع نہیں بناتے۔تم لوگوں نے دین کے لئے اپنے گھر بار۔اپنے خویش و اقارب۔اپنے احباب وغیرہ کو چھوڑا ہے اگر تم بھی قرآنی تعلیم حاصل نہ کرو تو افسوس ہے۔(بدر۱۶؍ستمبر ۱۹۰۹ء صفحہ اوّل) :خوبصورت دکھلائی گئی ہے کافروں کیلئے ورلی زندگی کا فاعل نہیں بتایا۔یہ امر تحقیق طلب ہے۔قرآن مجید میں تین موقع پر اس کا فاعل مذکور ہے۔ایک جگہ حق سُبحانہ‘ فرماتا ہے(الحجرات:۸)دومؔ ایک مقام پر فرمایا کہ تم کِسی کے بزرگوں کو گالیاں نہ دو وہ تمہارے معبود حقیقی کو گالی دیں گے۔(الانعام:۱۰۹)اِس سے آگے فرماتا ہے غرض ایمان کی خوبیاں اور ایمان کے تعلقات ان کو خوبصورت دکھلانے والا تو اﷲ ہے اور وہ جو بَدی کو خوبصورت دکھلاتا ہے اس کا ذکر اِس آیت میں ہے (الانعام:۱۳۸) اور(الانفال:۴۹)