حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 345
حصر کے لئے ہیں گویا بڑی تاکید سے فرماتا ہے کہ تمہاری تکالیف تمہاری نافرمانی کا نتیجہ ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۶؍ اپریل ۱۹۰۹ء) اَلْعِقَاب: وہ عذاب جو نافرمانی کے بعد نازل ہؤا۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۴۲) بنی اسرائیل کو کِس قدر کھُلے کھُلے نشانات دیئے۔ان کے دشمن کو ان کے سامنے اسی بحر میں جس سے وہ صحیح سلامت نکل آئے ان کے دیکھتے دیکھتے ہلاک کیا۔ان کے املاک کا وارث کیا اور پھر یہ کہ بنی اسرائیل سب کے سب غلام تھے۔حضرت موسٰیؑ خود فرماتے ہیں ((الشعراء:۲۳) خدا نے ان پر یہاں تک فضل کیا کہ غلامی سے بادشاہی دی، نبوّت دی، تمام جہانوں کے لوگوں پر فضیلت دی۔چنانچہ فرماتا ہے(المآئدۃ:۲۱)لیکن جب بنی اسرائیل نے ان انعاماتِ الہٰی کی کچھ قدر نہیں کی تو (البقرۃ:۶۲) کا فتوٰی ان پر چل گیا۔وہی یہود جو تمام جہان کے لوگوں پر فضیلت رکھتے تھے دُنیا میں اُن کے رہنے کے لئے کوئی اپنی سلطنت نہیں۔جدھرجاتے ہیں بندروں کی طرح دھتکارے جاتے ہیں۔یہ کیوں؟۔اب یہاں بنی اسرائیل نہیں بیٹھے سب مسلمان ہی ہیں۔مسلمانوں پر خدا نے بنی اسرائیل سے بڑھ انعامات کئے۔ان کو نہ صرف بنی اسرائیل کے ملکوں کا وارث کیا بلکہ اَور ملک بھی دیئے۔ملکِ شام کے علاوہ افریقہ تک حکومت دی۔جبل الطارق پر بھی حکمران تھے۔مشرق میں کا شغر، بخارا سے چائنا تک پہنچے لیکن جب مسلمانوں نے خدا کی نعمتوں کی قدر نہ کی تو جبل الطارق جبرالٹر بن گیا۔کا شغر وغیرہ پر روس کی حکومت ہو گئی۔گنگا کا کنارا اور سندھ انگریزوں کے قبضہ میں آیا۔ایسا کیوں ہؤا ؟جو بنی اسرائیل نے کیا وہی مسلمانوں نے کیا۔خدا نے ان کو ایسا دین دیا جو کُل دینوں سے بڑھ کر ہے۔ایسی کتاب دی جو کُل کتبِ الہٰیہ کی جامع ہے۔ایسا نبی دیا جو تمام انبیاء کا سردار ہے ( اور احمدیوں کو تو وہ امام دیا جو تمام اولیاء کا سردار ہے ) بنیِ اسرائیل کے فرعون کو تو سمندر میں غرق کیا مگر ہمارے نبی کریمصلّی اﷲ علیہ وسلّم کے فرعون ( ابوجہل) کو باوجود یکہ ہم کتابوں میں یہی پڑھتے آتے تھے اِمّا اَنْ لَّا یَکُوْنَ فِی الْبَحْرِ اِمَّا اَنْ یُّغْرَقَخشکی میں غرق کر کے دکھا دیا۔پس کِس قدر افسوس ہے کہ مسلمان ان نعمتوں کی بے قدری کر رہے ہیں۔اس کتاب کی جس کو (البقرۃ:۳) فرمایا ( یعنی اگر کوئی