حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 31
پھر مجاہد سے مروی ہے کہ حروف سورتوں کے مفاتح ہیں اور چونکہ سورتیں بھی قرآن پھر مجاہد سے مروی ہے کہ حروف سورتوں کے مفاتح ہیں اور چونکہ سورتیں بھی قرآن مجید ہیں لہٰذا وہ مفاتح القرآن بھی ہیں اور یہ بھی مخالف نہیں بلکہ مؤیّد ہے اِس لئے کہ سورتوں کا اِفتتاح بھی تسبیح و تحمید اور اسمائِ حسنیٰ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔پس اگر باوجود ان کے اسمائِ الہٰی کی طرف مشیر ہونے کے مفاتح القرآن بھی ہوں تو کچھ حرج کی بات نہیں اور پھر بعض کا قول ہے کہ یہ اسماء الہٰی اور افعال سے ہیں اور یہ حضرت ابِن عبّاسؓ سے مروی ہے تو یہ بھی مخالف نہیں بلکہ مؤید ہے اِس لئے کہ اسمائِ الہٰی میں سے وہ بھی ہیں جو افعالِ الہٰی پر دال ہیں۔پھر بعض نے کہا ہے کہ یہ معنے کیلئے یا بہت معانی کے لئے موضوع ہیں تو یہ بھی مخالف نہیں بلکہ مؤید ہے اور پہلا مجاہد ہی کا قول ہے اور مؤید اِس وجہ سے ہے کہ مجاہد وغیرہ نے جو معنے بیان کئے ہیں وہ وہی ہیں جو پہلے ہم بیان کر آئے ہیں اور ان کا مؤید ہونا ہم پہلے بیان کر آئے ہیں اور وضع یہاں پر مجاز کو بھی شامل ہے کہ جس کو وضعِ نوعی کہتے ہیں اور اصل معنوں کی تائید اس دلیلِ عقلی سے بھی ہوتی ہے جو کہ اِس دَور کے امام حضرت مسیح موعود اور مہدیٔ مسعود علیہ السّلام نے بیان فرمائی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر ایک واقعی شئی کے لئے چار عِلّتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ایکؔ علّتِ مادی کہ جس میں وہ شئی بننے کی استعداد اور قابلیّت ہوتی ہے۔دومؔعلّتِ صوری کہ جس کے ساتھ وہ چیز موجود ہو جاتی ہے۔سومؔ علّتِ غائی۔اور یہ وہ غرض اور فائدہ ہے کہ جو اس شئے پر مرتّب ہوتا ہے اور اسی کیلئے وہ شئے بنائی جاتی ہے اور چہارم علّتِ فاعلی، اور یہ وہ ہے جو کہ اس شئے کو بنانے والی ہوتی ہے۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان بابت ستمبر ۱۹۰۶ء) تو یہاں پر علّتِ مادی ہے یعنی چو نکہ اﷲ کے علم میں ہے اور علّتِ صوری ہے اورعلّتِ غائی ہے۔اب باقی رہی علّتِ فاعلی۔تو یقینا ثابت ہوتا ہے کہ اس کا بیان میں ہے۔پس ثابت ہؤا کہ الف،لام، میم میں اشارہ ہے اﷲ ،لطیف،معلّم اور مُرسِل اور مُنزِل کتاب کی طرف یا اَنَا اﷲُ اَعْلَمُکی طرف یعنی مَیں ہوں بہت جاننے والا اﷲ۔پس اِس دلیلِ عقلی سے بھی یہی ثابت ہے کہ اِن حروف سے مراد اسمائِ الہٰی ہیں یا بالفاظِ دیگر یُوں کہنا چاہیئے کہ یہ اﷲ علیم کے ان پروانوں پر اپنے خاص دستخط ہیں۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان بابت ماہِ ستمبر ۱۹۰۶ء)