حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 30
ہیں تو یہ بھی مخالف نہیں بلکہ پہلی روایت کے مؤید ہے کیونکہ پہلی روایت کے مطابق ان سے مراد اسمائِ الہٰی ہیں اور ظاہر ہے کہ اسمائِ الہٰی عموماً خدا کی صفت اور ثنا ہوتے ہیں۔مثل ربّ العالمین، الرحمن،الرحیم،الرزاق،ذوالقوّۃ، المتین وغیرہ کے۔پس یہ روایت بھی مؤید ہے نہ مخالف۔اِسی طرح حضرت ابن عباسؓ اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ حروف قَسم ہیں کہ جن کے ساتھ قَسم کھائی گئی ہے تو یہ بھی مخالف نہیں بلکہ مؤید ہے کیونکہ قَسم بھی اسمائِ الہٰی کے ساتھ کھانے کا حکم ہے۔پھر بعض مفسّرین نے لکھا ہے کہ الٓمٓ نام ہے سُورۃ کا اور یہ وہ بات ہے کہ جس پر اکثر مفسّرین کا اِتفاق ہے اور اکثر محققین نے اِسی کو پسند کیا ہے اور خلیل اور سیبوَیہ جیسے جلیل القدرامام بھی اِسی طرف گئے ہیںاور اس پر ان احادیث سے اِستدلال کیا گیا ہے کہ جن میں کسی سُورت کو ان حروف کے ساتھ نامزد کر کے ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم جمعہ کی صبح کی نماز میں الٓمٓ سجدۃ اور ھل اَتٰی پڑھا کرتے تھے اور ایک حدیث میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یٰسٓ قرآن مجید کا دل ہے اور ایک دوسری میں آیا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے صؔ میں سجدہ کیا۔مجاہد نے کہا کہ یہ سورتوں کے اوّل کے حکم میں ہیں یعنی جس طرح سُورتوں کے اوّل سے ان سورتوں کو نامزد کیا جاتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے سورۂ قُلْ یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ َیا قُلْ ھُوَ اﷲُ و غیرھما۔اِسی طرح اِن حرفوں سے بھی ان سورتوںکو نامزد کیا جاتا ہے اور یہی قول ہے مجاہد اور حسن اور زید بن اسلم کا۔تو یہ قول بھی مخالف نہیں بلکہ مؤید ہے کیونکہ جب یہ مسلّم بات ہے کہ سورتوں کے نام ان کے ابتدا کے ساتھ رکھا جاتا ہے اور ان کے اوائل کے فی الحقیقت کچھ معنے بھی ضرور ہی ہوتے ہیں تو پھر یہ حروف جو سُورتوں کے اوائل میں ہیں اگر باوجود اسمائِ الہٰی کی طرف مشیر ہونے کے ان سورتوں کے نام بھی ہوں تو اِ س میں کیا حرج ہے۔پھر مجاہد سے مروی ہے کہ یہ قرآن مجید کے نام ہیں اور یہ بھی مخالف نہیں بلکہ مؤید ہے کیونکہ ہر ایک سورۃ قرآن ہے تو جب یہ سورتوں کے نام ہوئے تو بالضرور قرآن مجید کے ہی نام ہوئے اور جس طرح کہ سورتوں کے اسماء اور اسمائِ الہٰی کے اجزا ہونے میں کسی قِسم کی منافات نہیں بلکہ دونوں ہو سکتے ہیں اسی طرح اسماء قرآن مجید اور اسمائِ الہٰی کے اجزاء ہونے میںکوئی مخالفت نہیں اور نہ اسماء قرآن مجید اور اسماء الہٰی ہونے میں کچھ نقص عائد ہو سکتا ہے۔