حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 151
پس میرے پیارو! اگر تم بڑوں کی اولاد ہو اور خدا نے تمہیں تیرہ سَو برس سے عزّت دی تو بڑوں کے کاموں کو نابُود کرنے والے نہ بنو۔تم خود ہی بتاؤ کہ وہ شِرک کرتے، جھُوٹ بولتے، دھوکا کرتے، وہ دوسروں کو دُکھ دیتے تھے؟ ہرگز نہیں۔تو کیا تم ان افعال کے مُرتکب ہو کر بڑے بن سکتے ہو؟ بنی اسرائیل کو تو خدا نے شام میں بڑائی دی تھی مگر اسلام نے یہاں تک معزّز کیا کہ تمہیں سارے جہان کا عظیم انسان بنا دیا۔اِس نعمت کا شُکر کرو کیونکہ آیتَ تمہیں انعاماتِ الہٰی یاد دلانے کے لئے نازل ہوئی ہے۔اگر تم ان انعاماتِ الہٰی کی ناقدری کرو گے تو اس کا وعید تیار ہے کیونکہ جس طرح نیکی کا پھَل اعلیٰ درجے کا آرام ملتا ہے ایسا ہی بَدی کا پھَل بھی ذِلّت و اِدبار کے سوا کچھ نہ ہو گا۔یہود کو کُفرانِ نعمت کی سزا میں پہلے مدینہ سے نکالا گیا توْ…ْ (الحشر:۱۲)کہنے والے کچھ کام نہ آئے۔پھر جب مدینہ سے نکالے گئے تو ان کا کوئی مددگار نہ ہؤا۔اِسی طرح مسلمانوں کے ساتھ بھی معاملہ ہؤا۔سپینؔ سے ایک دن نکال دیئے گئے۔لاکھوں لاکھ جنہوں نے جانے سے ذرا چُون و چرا کی ان کو عیسائی بنا لیا گیا۔اَب سیاحوں سے پُوچھو اسلام کا وہاں نام و نشان تک نہیں۔مسجدیں ہیں اور چند عدالت کے کمرے۔وہ تمہارے رُلانے کے لئے رکھ چھوڑے ہیں… غرص اگر بنی اسرائیل کو یہ احسان یاد دلایا ہے تو مسلمانوں کے فرعون کو خشکی میں غرق کر کے اس کے بعد کئی انعامات ان پر کئے۔اَب اگر وہ ناشکری کریں گے تو سزا پائیں گے۔جس طرح حضرت موسٰیؑ کو چالیس روز خلوت میں رکھا اُسی طرح ہماری سرکارصلّی اﷲ علیہ وسلّم بھی غارِ حرا میں رہے۔ احمدی قوم پھر قادیان کے رہنے والے خصوصیّت سے اس پر غور کریں۔ایک وقت ایسا آ جاتا ہے کہ کوئی جی کسی جی کے کام نہیں آ سکتا۔والدہ کو کتنی محبّت ہوتی ہے مگر ذرا بچّے کے پیٹ میں