حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 150 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 150

نعمت کا ذکر کرتا ہوں۔وہ کیا۔یہ اُس کا پاک اور کامل کلام ہے جس کے ذریعے سے انسان ہدایت کی صاف اور مصفّا راہوں سے مطلع اور آگاہ ہؤا اور ایک ظلمت اور تاریکی کی زندگی سے نکل کر روشنی اور نور میں آیا۔ایک انسان دوسرے انسان کی ،باوجود ہم جنس ہونے کے، رضاسے واقف نہیں ہو سکتا تو پھر اﷲ تعالیٰ کی رضاء سے واقف ہونا کِس قدر محال اور مشکل تھا۔یہ خدائے تعالیٰ کا احسانِ عظیم ہے کہ اس نے اپنی رضاکی راہوں کو بتلانے اور اپنی وراء الوراء مرضیوں کو ظاہر کرنے کے لئے انبیاء علیہم السّلام کا سِلسلہ قائم فرمایا… یہ احسان ہے اﷲ تعالیٰ کا جو اسلام سے مخصوص ہے کہ بھولی بسری متاع اﷲ تعالیٰ جیسا وقت ہوتا ہے اس کے لحاظ سے اُس کا یاد دلانے والا بھیج دیتا ہے۔یہ انعام ہے۔یہ فضل اور احسان ہے اﷲ تبارک و تعالیٰ کا… اِس آیت میں خدا تعالیٰ اُس فطرت کے لحاظ سے جو انسان میں ہے ارشاد فرماتا ہے کہ میری نعمتوں کو یاد کرو جو مَیں نے تم پر کی ہیں۔وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ بنی اسرائیل کو کہتا اور مسلمانوں کو سُناتا ہے کہ اور مَیں نے تم کو دُنیا میں ایک قِسم کی بزرگی عطا فرمائی ہے۔خدا تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والا آسمانی اور پاک علوم سے دلچسپی رکھنے والا جیسی زندگی بسر کر سکتا ہے اُس سے بہتر اور افضل وہم میں بھی نہیں آ سکتی۔منافق کا نفاق جب ظاہر ہوتا ہے تو اس کو کیسی شرمندگی اُٹھانی پڑتی ہے۔جھُوٹ بولنے والے کے جھُوٹ کے ظاہر ہونے پر وعدہ خلافی کرنے والے کے خلاف وعدہ پر ان کو کیسا دُکھ ہوتا ہے مگر محمد رُسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ وسلم کے ماننے والے مذہبی حیثیّت سے اپنے پاک اور ثابت شدہ بیّن اور روشن عقائد اور اصولِ مذہب کے لحاظ سے کُل دُنیا پر فضیلت رکھتے ہیں۔کیا خدا تعالیٰ کے حضور کوئی صرف دعوٰی سے افضل ہو سکتا ہے۔ہرگز نہیں۔خدا تعالیٰ مخفی در مخفی ارادوں اور نیّتوں کو جانتا ہے اس کے حضور نفاق کام نہیں آ سکتا بلکہ مَنْ اَتَی اﷲَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ (الشعراء:۹۰) کام آتا ہے۔(الحکم ۳؍مارچ ۱۸۹۹ء صفحہ ۳تا۵) قرآن کریم عجیب عجیب پَیرائے میں نصیحتیں فرماتا ہے۔بہادر سپاہی کی اولاد تم بھی غور کر لو۔کوئی اپنے آپ کو سیّد سمجھتا ہے وہ اپنے بڑوں کی بہادری پر کتنا فخر کرتا ہے۔کوئی قریشی کہلاتا ہے وہ سیّدوں کو اپنی جُزو قرار دیتا ہے۔اِسی طرح کوئی مُغل ہے۔کوئی پٹھان ، کوئی شیخ۔غرض مخلوق کے تمام گروہ اپنے آپ کوکسی بڑے آمی سے منسُوب کرتے ہیں مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ بڑا آدمی کیوں بنا؟ اپنے اعمال سے۔پس اگر تم ان اعمال کے خلاف کرو گے تو کیا بڑے بن سکتے ہو۔ہرگز نہیں۔جو بہادری انسان کو بڑا بنا سکتی ہے کیا اُس بہادری کو ترک کر دینا انسان کو بُزدل نہیں بنا سکتا …