حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 152 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 152

دَرد اُٹھے وہ اس دَرد کو بانٹ ہی نہیں سکتی۔سب سے زیادہ محبّت کرنے والے تو پِیر ہوتے ہیں۔ان پِیروں میں سے سب سے بزرگ حضرت محمّد رسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے ہمیں ہگنے مُوتنے کی جانچ سکھائی۔پھر ہم نے اپنے امام کو دیکھا۔مَیں بیمار ہوتا تو وہ میرے لئے قربانیاں کرتے اور بار بار مکان کی تبدیلی کراتے اور دَم بدم خبر منگواتے۔ایسا دَرد کسی میں ہو سکتا ہے؟ پھر جب وہ فوت ہونے لگے تو ہم نے کیا کر لیا۔بعض وقت سفارش بھی کام دے جاتی ہے مگر ایک وقت سفارش بھی نہیں مانی جاتی۔مؤاخذہ الہٰی کا وقت ایسا آتا ہے کہ وَلَا یُقْبَلُ مِنْھَا شَفَاعَۃٌیہاں شفاعت کی مطلق نفی نہیں ہے کیونکہ اِلَّا بِاِذْنِہٖ کا اِستثنا ء دوسرے مقام پر موجود ہے۔ (الانبیاء:۲۹) قرآن میں آ چکا ہے۔دیکھو یہودیوں پر ایک وقت آیا کہ (الحشر:۱۲) کہنے والے بھی اُن کے کام نہ آ سکے۔ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء) اﷲتعالیٰ کے اِنعام کو یاد کر کے مومن اِس بات کو سوچے کہ ایک وقت آتا ہے۔وَاتَّقُوْا یَوْمًا: ایک وقت آتا ہے کوئی دوست ،آشنا ،اپنا بیگانہ کچھ کام نہیں آتا۔دُنیا میں نمونہ موجود ہے انسان بیمار ہوتا ہے تو ماں باپ بھی اس کی بیماری کو نہیں بٹا سکتے۔یہ نمونہ اِس بات کا کہ یہ سچّی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی پکڑ کے وقت کوئی کام نہیں آتا۔کسی کی سفارش اور جُرمانہ کام نہیں آتا اسلئے اُس دن کے لئے آج سے ہی تیارر ہو۔پس خدا تعالیٰ کے فضل کو یاد کر کے محبّتِ الہٰی کو زیادہ کرو اور غفلتوں اور کمزوریوں کو چھوڑ دو اور اپنے وعدوں کا لحاظ کرو کہ ’’ دین کو دُنیا پر مقدّم رکھیں گے۔‘‘ رنج و راحت، عُسر و یُسر میں قدم آگے بڑھائیں گے۔اﷲ تعالیٰ کی مخلوق اور بھائیوں سے محبّت کریں گے۔پھر کہتا ہوں کہ یہ بڑی خطرناک بات ہے کہ جو وعدوں کے خلاف کرتا ہے وہ منافق ہوتا ہے۔جھُوٹ اور وعدوں کی خلاف ورزی کرتے کرتے انسان کا انجام نفاق سے مبدّل ہو جاتا ہے۔اﷲ تعالیٰ مجھ کو اور آپ کو اِس سے بچائے اور صدق ، اِخلاص اور اعمالِ حَسنہ کی توفیق دے۔آمین (الحکم ۳؍مارچ ۱۸۹۹ء صفحہ۶) لَا: جب مدینہ کے بنی اسرائیل کو بہکایا تو وہ جلاوطن ہوئے یقینا یہی دِن مراد ہے قیامت کا ذکر نہیں۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۳۷)