حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 149 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 149

: اﷲتعالیٰ مخاطب کرتا ہے ایک قوم کو کہ تم بہادر سپاہی کی اولاد ہو اور بہادر بنو۔مَیں سمجھتا ہوں تمہیں بھی مخاطب کر کے یہی کہتا ہے۔تم اپنے بزرگوں کو دیکھو کہ کِس طرح نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم و صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے اِسلام کی اشاعت میں اپنی جان تک لڑا دی۔صحابہ رضی اﷲ عنہم ایسے بہادر تھے کہ ایک دفعہ نبی کریمصلی اﷲ علیہ وسلم نے ان سے کہا دریا کے کنارے پر جاؤ کچھ کام ہے۔تین سَو آدمی روانہ ہوئے اور مَیں حیران ہؤا کہ یہ نہیں پُوچھا کہ ہماری رَسد کا کیا اِنتظام ہو گا۔کچھ کھجوریں مدینہ سے لے گئے جو رستے ہی میں ختم ہو گئیں۔جب کچھ پاس نہ رہا تو کیکر کے پتّے پھانک کر گزارہ کرتے رہے۔پھر ایک ویل مچھلی مِل گئی جس پر تین سَو آدمیوں نے سترہ روز تک گزارہ کیا۔دیکھو اتّباع۔کیا محبّت تھی جو ان لوگوں میں تھی اَب مَیں دیکھتا ہوں کہ کسی کو مالی نقصان ہی پنچ جائے یا عزّت میں فرق آ جاوے یا کِسی کے خیال کے خلاف ہی کوئی حکمِ شرعی ہو تو اسے گراں گزرتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء) اﷲ تعالیٰ ہمارا مالک، ہمارا خالق، ہمارا رازق کثیر اور بے اِنتہا انعام دینے والا مولیٰ فرماتا ہے کہ میری نعمتوں کو یاد کرو۔انسان کے اندر قدرت نے ایک طاقت و دیعت رکھی ہے کہ جب کوئی اُس کے ساتھ احسان کرتا ہے تو اس کے اندر اپنے مُحسن کی محبّت پیدا ہوتی ہے جُبِلَتِ الْقُلُوبُ عَلٰی حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ اِلَیْھَا۔اور ایسا ہی اُس آدمی سے اُس کے دل میں ایک قِسم کی نفرت اور رنج پیدا ہو جاتا ہے جس سے اُس کو کِسی قِسم کی تکلیف یا رنج پہنچے اور یہ ایک فطرتی اور طبعی تقاضا انسان کا ہے۔پس اسی فطرت اور طبیعت کے لحاظ سے اﷲ تعالیٰ اِس مقام پر فرماتا ہے کہ اﷲ کریم کے احسانوں کا مطالعہ کرو اور ان کو یاد کر کے اس مُحسن اور مُنعم کی محبت کو دل میں جگہ دو۔اُس کے بے شمار اور بینظیر احسانوں پر غور تو کرو کہ اُس نے کیسی منوّر اور روشن آنکھیں دیں جن سے وسیع نظارۂ قدرت کو دیکھتے اور ایک حَظّ اُٹھاتے ہیں۔کان دیئے جن سے ہر قِسم کی آوازیں ہمارے سُننے میں آتی ہیں۔زبان دی جس سے کیسی خوشگوار اور عمدہ باتیں کہہ کر خود بخود خوش ہو سکتے ہیں۔ہاتھ دیئے کہ جن سے بہت سے فوائد خود ہم کو اور دوسروں کو پہنچتے ہیں۔پاؤں دئے کہ جن سے چل پھر سکتے ہیں۔پھر ذرا غور تو کرو کہ دُنیا میں اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ اَدنیٰ سا احسان بھی کرتا ہے تو وہ اس کا کِس قدر ممنون ہوتا ہے اور ہر طرح سے اس احسان کو محسوس کرتا ہے۔…غرص کُل دُنیا کی نعمتوں سے جو انسان مالا مال ہو رہا ہے یہ اس کی ہی ذرّہ نوازیاں ہیں۔جسمانی نعمتوں اور برکتوں کو چھوڑ کر اَب مَیں ایک عظیم الشّان نعمت رُوح کے فطرتی تقاضے کو پُورا کرنے والی