حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 101
ہے اور اس میں الحمد شریف کی گویا تفسیر ہے بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ الحمد شریف کی تفسیر میں سے پہلے سُورۃ ہے۔الحمد شریف کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے اسماء ظاہری اﷲ، ربّ العٰلمین،الرحمٰن،،مٰلک یَوم الدّین سے شروع فرمایا تھا اور اِس سورۃشریفہ کو اسماء باطنی سے شروع فرمایا یعنیجس کے معنی ہیں اَنَا اﷲُ اَعْلَمُ۔پھر الحمد شریف میں اﷲ تعالیٰ نے ایک کامل دعا تعلیم فرمائی تھی ۔یعنی ہم کواَقرب راہ کی جو تیرے حضور پہنچنے کی ہے راہنمائی فرما۔وہ راہ جو اُن لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہؤا یعنی نبیوں ،صدّیقوں اور شہیدوں اور صالحوں کی راہ۔سورۃ فاتحہ میں یہ دعا تعلیم ہوتی ہے لیکن اِس سورۃبقرۃمیں اِس دعا کی قبولیّت کو دکھایا ہے اور اسی کا ذکر فرمایا جبکہ ارشادِ الہٰییوںہؤا یہ وہ ہدایت نامہ ہے یعنی متّقی اور بامراد گروہ کا ہدایت نامہ۔ہاں گروہ کی راہ یہی ہے۔پھر منعم علیہ گروہ کے اعمال و افعال کا ذکر کیا اور ان کے ثمرات میں فرمایا۔ان کے افعال و اعمال میں بتایا کہ وہ الغیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور اﷲ کے دئیے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کی وحی اور کلام اور سلسلہ رسالت پر ایمان لاتے ہیں، جزا و سزا پر ایمان لاتے ہیں۔یہ منعم علیہ گروہ کی راہ ہے۔اب ہر ایک شخص کا جو قُرآن شریف پڑھتا ہے یا سُنتا ہے یہ فرض ہے کہ وہ اس رکوع کے آگے نہ چلے جب تک اپنے دِل میں یہ فیصلہ نہ کرلے کہ مجھ میں یہ صفات یہ کمالات ہیں یا نہیں؟اگر ہیں تو وہ مبارک ہے اور اگر نہیں تو اسے فِکر کرنی چاہیئے اور اﷲ تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں مانگنی چاہئیں کہ وہ ایمانِ صحیح عطا فرماوے۔ دراصل عقائدِ صحیحہ کو مشتمل ہے اور مسئلہ رسالت اور الہام و وحی کے متعلق ہے اور جزا و سزا کے متعلق ہے۔پھر ان اعمال و افعال کے ثمرات میں بتایا ہے۔اگر انسان حقیقی کامیابی حاصل کرتا ہے اور بامراد ہو رہا ہے تو اسے خوش ہونا چاہیئے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے منعَم علیہ گروہ کے زُمرہ میں شامل ہے لیکن اگر نہیں تو پھر فکر کا مقام اور خوف کی جاہے۔پس قرآن کریم کی تلاوت کی اصل غرض یہی ہے کہ انسان اس پر عمل کرے۔منعَم علیہ گروہ کے