حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 102 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 102

ذِکر کے بعد پھربتایا کہ مغضوب علیھم کون لوگ ہیں ان کے کیا نشانات ہیں اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ان کے عام نشانات میں سے بتایا کہ یہ وہ گروہ ہے جو تیرے اِنذار اور عدمِ اِنذار کو برابر سمجھتا ہے اور چونکہ وہ وجود و عدمِ وجود کو برابر سمجھتے ہیں اِس لئے باوجود دیکھنے کے وہ نہیں دیکھتے اور باوجود سُننے کے نہیں سُن سکتے۔دِل رکھتے ہیں پر نہیں سمجھ سکتے ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوتا ہے عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ جو شخص آنکھ رکھتا ہے وہ کیوں انہیں دیکھتا، کان رکھتا ہے کیوں نہیں سُنتاانہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ نتیجہ ہے ایسے لوگوں کے ایک فعل کا۔وہ فعل کیا ہے؟ انذار اور عدم انذار کو مساوی سمجھنا۔اِس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص انگریزی زبان کے پڑھنے یا نہ پڑھنے کو برابر سمجھے تو وہ اس کو کب سیکھ سکتا ہے اس صورت میں وہ اس زبان کی اگر کسی کتاب کو دیکھے تو بتاؤ اس دیکھنے سے اسے کیا فائدہ؟ اگر کسی دوسرے کو پڑھتے ہوئے سُنے تو اس سُننے سے کیا حاصل۔دیکھو وہ دیکھتا ہے اور پھر نہیں دیکھتا۔سُنتا ہے اور پھر نہیں سُنتا۔اِسی طرح پر جو لوگ اﷲ تعالیٰ کے مامور و مُرسل کے انذار اور عدم انذار کو برابر سمجھتے ہیں تو وہ اس سے فائدہ کیونکر اُٹھا سکتے ہیں؟ کبھی نہیں۔جب ایک چیز کی انسان ضرورت سمجھتا ہے تو اس کے لئے سعی اور مجاہدہ کرتا ہے اور پھر اس مجاہدہ پر ثمرات مترتّب ہوتے ہیں لیکن اگر وہ ضرورت ہی نہیں سمجھتا تو اس کے قوی مجاہدہ کے لئے تحریک ہی پیدا نہیں ہو گی۔یہ بہت ہی خطرناک مرض ہے جو انسان رسولوں اور اﷲ تعالیٰ کے ماموروں اور اُس کی کتابوں کے وجود اور عدمِ وجود کو برابر سمجھ لے۔اِس مرض کا انجام اچھا نہیں بلکہ یہ آخر کار تکذیب اور کُفر تک پہنچا کر عذابِ الیم کا موجب بنا دیتا ہے۔پس تلاوت کرنے والے کو پھر اس مقام پر سوچنا چاہیئے کہ کیا خدا کے رسول و مامور کے اِنذار اور عدمِ انذار کے مساوات کی یہی صورت نہیں ہوتی جو آدمی زبان سے کہہ دے بلکہ اگر رسول کے فرمودہ کے موافق عمل نہ کرے تو یہی ایک قِسم کی اِنذار اور عدمِ اِنذار کی مساوات ہے۔(الحکم ۳۰؍اپریل؍۱۰مئی ۱۹۰۴ء) پھر الضّال کی تفسیر بیان فرمائی کہ یہ لوگ کون ہوتے ہیں؟ سورۃ فاتحہ میں جو دعا تعلیم کی تھی اس میں ضالّین کی راہ سے بچنے کی دعا تھی اور یہاں اُن لوگوں کے حالات بتائے کہ وہ کون ہوتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ اَور ہوتا ہے۔اِسی لئے فرمایایعنی یہی وہ لوگ