حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 100
قانون میں داخل ہے کہ امساکِ باراں کے بعد مینہ برستا ہے۔سخت تاریکی کے بعد روشنی آتی ہے فیج اَعوج اور سخت کمزوریوں کے بعد ایک روشنی ضروری ہے وہ شیطانی منصوبوں سے نہیں مل سکتی بُہتوں کے لئے اس میں ظلمت اور دُکھ ہو اور ایک نمک کا تاجر جو اس میں جا رہا ہے اسے پسند نہ کرے۔بہت سے لوگ روشنی سے فائدہ اُٹھا لیتے ہیں اور اکثر ہوتے ہیں جو اپنے کانوں میں اُنگلیاں دے لیتے ہیں مگر اَحمقوں کو اِتنی خبر نہیں ہوتی کہ خدائی طاقت اپنا کام کر چکی ہوتی ہے۔غرص یہ ہے کہ علِم حاصل کرو اور پھر عمل کرو۔علم کے لئے معلّم کی ضرورت ہے۔یہ دعوٰی کرنا کہ ہمارے پاس علم القرآن ہے صحیح نہیں ہے۔ایک نوجوان نے ایسا دعوٰی کیا۔ایک آیت کے معنے اُس سے پُوچھے تو اَب تک نہیں بتا سکا۔ہمارے ہادیٔ کامل بنی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کو تو یہ تعلیم ہوتی ہے(طٰہٰ:۱۱۵) تم بھی دعا کرو۔یاد رکھو کہ اگر میں سے ہو تو اَور ترقّی کرو اور کِسی وجود کی جو خدا کی طرف سے آیا ہے وجود اور عدم وجود کو برابر نہ سمجھو۔ظاہر و باطن مختلف نہ ہو۔دُنیا کو دین پر مقدّم نہ کرو۔بعض اَوقات دُنیاداروں کو دَولت ، عزّت اَندھا کر دیتی ہے۔خدا کی برسات لگ گئی ہے وہ اَب سچّے پَودوں کو نشوونما دے گی۔اور ضرور دے گی خدا کی اِن ساری باتوں پر ایمان لا کر سچّے معاہدہ کو یاد رکھو ایسا نہ ہو کہ (البقرۃ:۱۵)ہی کے مصداق رہ جاؤ۔اِس کا اصل علاج استغفار ہے اور استغفار انسان کو ٹھوکروں سے بچانے والا ہے۔(الحکم ۲۴؍نومبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۷،۸) جس قدر انسانی فطرت اور اس کی کمزوریوں پر نظر کرو گے تو ایک بات فطرتی طور پر انسان کا اصل منشاء اور مقصد معلوم ہو گی وہ ہے حصولِ سُکھ۔اس کے لئے وہ ہر قِسم کی کوششیں کرتا اور ٹکریں مارتا ہے لیکن مَیں تمہیں اس فطرتی خواہش کے پُورا کرنے کا ایک آسان اور مجرّب نسخہ بتاتا ہوں کوئی ہو جو چاہے اِس کو آزما کر دیکھ لے۔مَیں دعوٰی سے کہتا ہوں کہ اِس میں ہرگز ہرگز کوئی خطا اور کمزوری نہ ہو گی اور مَیں یہ بھی دعوٰی سے کہتا ہوں کہ جس قدر کوششیں تم ناجائز طور پرسُکھ کے حاصل کرنے کے لئے کرتے ہو اس سے آدھی ہی اِس کے لئے کرو تو کامل طور پر سُکھ مِل سکتا ہے وہ نسخۂ راحت یہ کتابِ مجید ہے اور مَیں اِسی لئے اِس کو بہت عزیز رکھتا ہوں اور اِس وجہ سے کہ کامل مومن اس وقت تک انسان نہیں ہوتا جب تک اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے۔مَیں اِس کتاب کا سُنانا بہت پسند کرتا ہوں۔اِس کتابِ مجید کی یہ پہلی سورۃشریف