حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 99
اپنے ہی علِم و دانش پرخوش ہو جاتے ہیں وہ خدا کے غضب کے نیچے آ جاتے ہیں۔یہی حال یہود کا ہؤا۔پھر تیسرا گروہ گمراہوں کا ہے جن کا ذکر اِن آیات میں ہے جو مَیں نے پڑھی ہیں۔ان کے کاموں میں دجل اور فریب ہوتا ہے۔وہ اپنے آپ کو کلامِ الہٰی کا خادم کہتے ہیں مگر بڑی بڑی تجارتیں کرتے ہیں مگر ہدایت کے بدلے تباہی خریدتے ہیں اور کوئی عمدہ فائدہ ان کی تجارت سے نہ ہؤا۔میرے دِل میں بارہا یہ خیال آیا ہے کہ ایک تِنکے پر بھی شئے کا اطلاق ہوتا ہے اور وہی شئے کا لفظ وسیع ہو کر خدا پر بھی بولا جاتا ہے۔یاد رکھو نفاق دو قِسم کا ہوتا ہے ایک وہ کہ دِل میں کوئی صداقت نہیں ہوتی۔وہ اعتقادی منافق ہوتا ہے۔اس کا اعلیٰ سے اعلیٰ نمونہ عیسائیوں کا مذہب ہے۔انجیل کی حالت کو دیکھو کہ اس کی اشاعت پر کِس قدر سعیٔ بلیغ کی جاتی ہے مگر یہ پُوچھوکہ اِس کتاب کے جملہ جملہ پر اعتقاد ہے؟ تو حقیقت معلوم ہو جائے گی۔اِسی طرح پر مَیں دیکھتا ہوں کہ خدا کا خوف اُٹھ گیا ہے۔وہ دعوٰی اور معاہدہ کہ دین کو دُنیا پر مقدّم رکھوں گا قابلِ غور ہو گیا ہے۔اب اپنے حرکات و سکنات ، رفتار و گفتار پر نظر کرو کہ اِس عہد کی رعایت کہاں تک کی جاتی ہے۔پس ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہو ایسا نہ ہو کہ کے نیچے آ جاؤ۔منافق کی خدا نے ایک عجیب مثال بیان کی ہے کہ ایک شخص نے آگ جلائی مگر وہ روشنی جو آگ سے حاصل کرنی چاہیئے تھی وہ جاتی رہی اور ظلمت رہ گئی۔رات کو جنگل کے رہنے والے درندوں سے بچنے کے واسطے آگ جلایا کرتے ہیں لیکن جب وہ آگ بُجھ گئی تو پھر کئی قِسم کے خطرات کا اندیشہ ہے۔اِسی طرح پر منافق اپنے نفاق میں ترقّی کرتے کرتے یہاںتک پہنچ جاتا ہے اور اس کا دل ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ حق کا گویا شنوا اور حق کا بِینا نہیں رہتا۔ایک شخص اگر راہ میں جاتا ہو اور سامنے ہلاکت کا کوئی سامان ہو وہ دیکھ کر بچ سکتا یا کِسی کے کہنے سے بچ سکتا یا خود کسی کو مدد کے لئے بُلا کر بچ سکتا ہے مگر جس کی زبان، آنکھ، کان کچھ نہ ہو اس کا بچنا محال ہے۔یا جوج ما جوج بھی آگ سے بڑے بڑے کام لے رہے ہیں مگر انجام دہی نظر آتا ہے۔مومن کا کام ہے کہ جب دعوٰی کر لے تو کر کے دکھاوے کہ عملی قوّت کِس قدر رکھتا ہے۔عمل کے بُدوں دُنیا کا فاتح ہونا محال ہے۔یاد رکھو ہر ایک عظیم الشّان بات آسمان سے ہی آتی ہے۔یہ امر خدا کی سُنّت اور خدا کے