حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 98
انبیاء وہ رفیع الدّرجات اِنسان ہوتے ہیں جو خدا سے خبریں پاتے ہیں اور مخلوق کو پہنچاتے ہیں۔پھر وہ راستباز ہیں جو انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں اور پھر وہ لوگ ہیں جن کے لئے وہ باتیں گویا مشاہدہ میں آئی ہوئی ہیں اور پھر عام صالحین۔اِس گر وہ کی تفسیر خدا تعالیٰ نے آپ ہی سُورۃ بقرۃ کے شروع میں بیان کر دی ہے کہ ہدایت کی راہ کیا ہے؟ وہ یہ کہ اﷲ پر ایمان لائے، جزا و سزا پر ایمان لاوے اور پھر اﷲ ہی کی نیازمندی کے لئے تعظِیم لاِمراﷲ کے واسطے نمازوں کو درست رکھنا اور شفقت علیٰ خلقِ اﷲ کے واسطے جو کچھ اﷲ تعالیٰ نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خرچ کریں۔پھر اِس بات پر ایمان لاویں کہ ہمیشہ خدا تعالیٰ سے تسلّی اور تعلیم پا کر دُنیا کی اصلاح کے لئے معلّم اور مزکّی آئے ہیں۔یاد رکھو صرف علِم تسلّی بخش نہیں ہو سکتا جب تک معلّم نہ ہو۔بائبل میں نصیحتوں کا انبار موجود ہے اور عیسائی بھی بَغل میں کتاب لئے پھرتے ہیں۔پھر اگر ایمان صِرف کتابوں سے مِل جاتا تو کیا کمی تھی مگر نہیں ایسا نہیں۔خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو بھیجتا ہے جو (الجمعۃ: ۳) کے مصداق ہوتے ہیں۔ان مزکّی اور مطہّر لوگوں کی توجّہ ، انفاس اور رُوح میں ایک برکت اور جذب ہوتا ہے جو ان کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے انسان کے اندر تزکیہ کا کام شروع کرتا ہے۔یاد رکھو اِنسان خدا کے حضور نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ کوئی اُس پر خدا کی آیتیں تلاوت کرنے والا اور پھر مزکّی کرنے والا اور پھر علِم اور عمل کی قوّت دینے والا نہ ہو۔تلاوت تب مفید ہو سکتی ہے کہ علم ہو اور علِم تب مفید ہو سکتا ہے جب عمل ہو اور عمل تزکیہ سے پیدا ہوتا ہے اور علِم معلّم سے ملتا ہے۔بہر حال مومنوں کا ذکر ہے کہ ان کو ایمان بالغیب کی ضرورت ہے جس میں، حَشر و نشر، صراط جنّت و نار سب داخل ہیں۔یہ اس کا عقیدہ اوّل درست ہو جائے تو پھر نماز سے امر الہٰی کی تعظیم پَیدا ہوتی ہے اور خدا کے دیئے ہوئے میں سے خرچ کرنے سے شفقت علیٰ خلقِ اﷲ۔پھر برہموؤں کی طرح نہ ہو جاوے جو الہام کی ضرورت محسوس نہیں کرتے بلکہ وہ اِس بات پر ایمان لائے کہ خدا تعالیٰ نے نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلم پر اپنا کلام اُتارا اور آپ سے پہلے بھی اور آپ کے بعد بھی مکالماتِ الہٰیّہ کا سِلسلہ بند نہیں ہؤا۔یہ تو منعم علیہ گروہ کا ذکر ہے۔اِس کے بعد وہ لوگ مغضوب ہیں جو خدا تعالیٰ کے ماموروں کے وجود اور عدم وجود کو برابر سمجھ لیتے ہیں اور اُن کے انذار اور عدم انذار کو مساوی جان لیتے ہیں اور پروا نہیں کرتے اور