حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 97 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 97

لَقُوْا، لَقِیَ کی جمع ہے لِقَاء سے، جس کے معنے قریب کے ہیں۔پس لَقِیَ کے معنے ہوئے قَرْبَ نزدیک اور لَقُوْاکے معنے ہوئے وہ نزدیک ہوئے۔جیسا کہ قرآن مجید کے ایک اَور مقام پر آیا ہے کہ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ ( اٰل عمران: ۱۶۷) ( جس دِن قریب قریب ہوئیں دو جماعتیں) اور اِس کے معنے ملنے کے بھی ہوتے ہیں اور وہ بھی قریب ہی ہے۔خَلَوْا، خَلٰی کی جمع ہے جس کے معنے ہیں مَضٰی گیا جیسا کہا کرتے ہیں اَلْقُرُوْنَ الْخَالِیَہ گذشتہ صدیاں۔اور جب خَلَا کے بعد باء ؔ آتا ہے تو اس کے معنے اکیلا ہونے کے ہوتے ہیں جیسا کہ خَلَوْتُ بِہٖ ( مَیں اس کے ساتھ اکیلا ہؤا)۔شَیْطٰن کے لفظ میں اختلاف ہے کہ یہ شَطَنَ سے ، یاشَیْط سے، پس اگر اوّل سے ہے تو اس کے معنے ہوئے بہت دُور ہونے والا کیونکہ شَطَنَ بمعنے بَعُدَ (دُور ہؤا) کے آیا ہے اور اگر دوم سے ہے تب اِس کے معنے ہوئے ، بہت ہلاک ہونے والا اور بہت بطلان والا۔کیونکہ شَیْط ہلاکت اور بطلان کو کہتے ہیں اور ہر ایک سرکش چیز کو شیطان کہتے ہیں اور یہاں پر جو شَیٰطِیْنِھِمْ آیا ہے اس سے مراد ان کے سردار اور بڑے ہیں۔حضرت ابنِ عباس اور ابنِ مسعود اور بہت سے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے فرمایا ہے کہ اِس سے مُراد وہ لوگ ہیں جو کہ کُفر میں ان کے سردار تھے۔جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے کہ وہ کہیں گے کہ   (الاحزاب : ۶۸) (بے شک ہم نے اپنے سرداروں اور بزرگوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہم کو اس راستہ سے بہکا دیا) اور اس خبر کے لئے آتا ہے جس سے مخاطب جاہل نہ ہو اور نہ اس کی صِحت سے انکار کرتا ہو۔دلائل الاعجاز میں عبدالقاھر جرجانی رحمتہ اﷲ علیہ نے کہا ہے اِسْتَھْذَئَ حقیر کرنے اور جاننے اور اہانت کو کہتے ہیں اور یہ لفظ ھَذَئَ سے بنایا ہؤا ہے اورھَذَئَ کہتے ہیں ہلکاپَن اور ہلنے ہلانے کو۔نَاقَۃٌ تَھْزَأ (اُونٹنی تیز اور ہلکی چلتی ہے) (رسالہ ’’ تعلیم الاسلام ‘‘ قادیان ماہ فروری ۱۹۰۷ء)  (سورۃ البقرۃ) یہ آتییں سورۃ بقرہ کے دوسرے رکوع کی ہیں۔الحمد شریف میں خدا تعالیٰ نے تین راہیں بتائی ہیں ایککی راہ۔دوسرے مَغْضُوْب۔تیسرے اَلضَّآلِّیْن کی راہ۔ کے معنے خود قرآن شریف نے بتائے ہیں کہ وہ انبیاء، اصدقاء، شہداء اور صالحین کی جماعت ہے۔