انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 682
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۸۲ سورة البينة قرآن کریم کے مطالعہ سے اس معنی کے لحاظ سے قضا کے جو بعض پہلو نمایاں طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ان میں سے مثلاً ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سورۃ اسراء میں فرماتا ہے۔وَقَضَى رَبُّكَ الا تعبدوا إلا إيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (بنی اسرائیل : ۲۴) ہم نے فیصلے مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ کے ماتحت کرنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ ہر قسم کے شرک سے بچا جائے۔اس کے بغیر حقوق اللہ ادا نہیں ہو سکتے۔انسان ایک چیز کے حصول میں بڑا پیسہ خرچ کرتا ہے اور بعض دفعہ ناجائز خرچ بھی کرتا ہے اور بعض دفعہ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں اپنے پیسے خرچ کرنے کی وجہ سے اور اپنے مال کی بدولت اپنے مقصود کو حاصل کرلوں گا اور نہیں جانتا کہ اس مال پر بھی اللہ کا تصرف اس کا فیصلہ اور اس کی قضا جاری ہے۔۔۔۔۔غرض اس دنیا میں اللہ تعالیٰ ہی کا حکم چلتا ہے اور بڑا احمق اور بد بخت ہے وہ شخص جو یہ سمجھنے لگے کہ آدھا خدا کا حکم چلتا ہے اور آدھا میرا چلے گا۔حکم خدا ہی کا چلے گا اسی لئے ہمیں خدا نے کہا اس نے ہمیں تنبیہہ کر دی اور ہمیں یہ ہدایت دے دی تا کہ ہم اس کے فضلوں کے زیادہ سے زیادہ وارث بنیں کہ جب تم نے ڈسین ( Decision) لینے ہوں جب تم نے فیصلے کرنے ہوں تو یاد رکھو کہ تمہارا کوئی فیصلہ، تمہارا کوئی ڈسین ( Decision) ، تمہارا کوئی ڈائرکٹو (Directive) تمہاری کوئی ہدایت اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی ہدایتوں کے خلاف نہ ہو اور تمہارا ہر فیصلہ اس کی رضا کے حصول کے لئے ہو۔اگر تم ایسا کرو گے تو تم خدا کے مخلص عبادت گزار بندے بن جاؤ گے۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تم عبادت کرتے ہوئے دنیا کو نظر بھی آؤ گے لیکن خدا کی نگاہ میں تم ان لوگوں میں شامل نہیں ہو گے جن کے متعلق وہ کہتا ہے مُخْلِصِينَ لَهُ الذِینَ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی عبادت کو خالصہ اللہ کے لئے مخصوص کر دیا ہے۔پس شرک کا کوئی شائبہ نہیں ہونا چاہیے اور وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا اس میں اللہ تعالیٰ نے آپس کے معاشرہ کو اور باہمی تعلقات کو مختلف پہلوؤں سے بیان کیا ہے۔گو یہاں اس نے صرف وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا کہا ہے لیکن اس میں تمام معاشرہ کے حقوق کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر قضاء کے متعلق ہمیں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم نظر آتا ہے کہ فیصلے اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہی نہ ہوں بلکہ بشاشت سے بھی ہوں اِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُةٌ اَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ