انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 683
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۸۳ سورة البينة اَمرِهِم (الاحزاب: ۳۷) جب خدا اور اس کے رسول کا فیصلہ ہو تو پھر اپنا اجتہاد نہیں کرنا بعض لوگ وہاں بھی اپنا اجتہاد شروع کر دیتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی واضح ہدایات موجود ہیں قرآن کریم میں یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں یا آپ کی سنت اور اُسوہ میں۔اس وقت یہ کہنا کہ یہ پرانے زمانے کی بات ہے اب یہ حکم نہیں چلتا غلط ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی دائمی شریعت میں جو احکام نازل کئے ہیں ان کی پابندی ضرور کرو۔اگر یہ پابندی ہم نہیں کرتے تو پھر ہمارے فیصلے مُخْلِصِينَ لَهُ الدین کے مطابق نہیں۔وہ خالصہ خدا کی اطاعت اور اس کی رضا کے حصول کے لئے نہیں بلکہ ہم اپنی دنیا بسانا چاہتے ہیں اور اس دنیا کو حسین اور منور نہیں بنانا چاہتے جس دنیا کواللہ تعالیٰ اپنی ہدایتوں اور اپنے انوار کے ذریعہ خوبصورت اور منور دُنیا بنانا چاہتا ہے۔پس فرمایا اگر تم بشاشت کے ساتھ احکام الہی کے سامنے اپنی گردنیں رکھو گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کے ارشادات کو قبول کرو گے تب عبادت کا حق ادا ہو گا ورنہ نہیں ہو گا۔اس سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ جہاں واضح ارشادات نہ ہوں وہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اجتہاد کی اجازت دی ہے لیکن اجتہاد کی یہ اجازت اس شرط کے ساتھ دی ہے کہ اس میں نفس کی ملونی نہ ہو بلکہ اجتہاد دعاؤں کے ساتھ ہو۔عاجزی کے ساتھ ہو۔پوری کوشش اور محنت کر کے پہلی مثالوں کو دیکھ کر قرآن کریم پر غور کر کے اور احادیث نبوی کو سامنے رکھ کر ہو۔سونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اُسوہ ہمارے سامنے ہے اپنے فیصلوں کو اس کے مطابق کرنے کی پوری کوشش کرو اور پھر تم اجتہاد کرو تا تمہارا اجتہاد مُخْلِصِينَ لَهُ الدّین کا مصداق ہو۔تمہارا اجتہادی فیصلہ خالصہ اللہ کے لئے اور اس کی اطاعت میں ہو۔تیسری چیز جو قضاء کے متعلق بنیادی طور پر ہمیں قرآن کریم میں نظر آتی ہے یہ ہے کہ ہر فیصلہ حق وانصاف پر مبنی ہونا چاہیے اگر ہمارے فیصلے حق اور انصاف پر مبنی نہیں تو پھر ہم صرف دنیا ہی کے گناہگار نہیں ہیں بلکہ ہم اللہ تعالیٰ کے بھی گناہگار ہیں۔ہم اس کی پرستش کا حق ادا نہیں کر رہے۔۔۔۔۔گیارہویں معنی دین کے جزا اور بدلہ کے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بدلہ لینے اور بدلہ دینے یعنی جزاوسزا کے میدان میں جو ہمارے فیصلے ہیں اور اعمال جو اس سے تعلق رکھتے ہیں وہ خالصہ اللہ کے