انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 681
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۸۱ سورة البينة ہے وہ فیصلے وقت کے پریس میں دب جاتے ہیں اور شام کو ہم معمولی سی گٹھڑی فیصلوں کی لاتے ہیں۔حالانکہ اس گٹھڑی میں اسی طرح بے شمار فیصلے ہوتے ہیں جیسے روئی کی گانٹھ میں بے شمار ریشے ہوتے ہیں ہمارا دن فیصلے کرتے ہوئے گزر جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان فیصلوں کی بنیاد دو چیزوں پر رکھ سکتے ہو۔ایک میری محبت اطاعت اور میری رضا کی جستجو پر اور دوسرے اپنی مرضی پر اگر تم اپنے فیصلوں کی بنیا دا اپنی مرضی پر رکھو گے یا اللہ کے سوا کسی اور کی مرضی پر رکھو گے تو تم اللہ تعالیٰ کی پرستش اور عبادت کا حق ادا نہیں کر رہے ہو گے۔اگر تم اپنی پیدائش کی غرض کو پورا کرنا چاہتے ہو۔اگر تم عبادت کا حق ادا کرنا چاہتے ہو تو تمہیں اپنے فیصلوں کو خالصتہ للہ بنانا پڑے گا اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تم مشرک بن جاؤ گے تم دہر یہ بن جاؤ گے تم اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندے نہیں ہو گے۔پس الدِّينُ الْقَضَاءُ دین کے معنی قضا کے ہیں اور قضا کا لفظ دوموٹے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ایک تو یہ لفظ حکم کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور دوسرے یہ قضا کے فیصلوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اور یہاں ہم یہ دونوں معنی لے سکتے ہیں۔بہر حال ایک معنی قضا کے حکم دینا، اپنے یا غیر کے متعلق فیصلہ کرنا یا ہدایت دینا یا ڈائر کٹو (Directive) دینا ہیں۔ان لوگوں کو جو ہمارے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور جن کو ہدایت دینا ہمارا فرض ہے۔مثلاً ہیڈ ماسٹر ہے، پرنسپل ہے، گھر کا مالک ہے، محلہ کا عہدہ دار ہے۔ان سب کو حکم یہ ہے کہ جب کوئی فیصلہ کرنے لگو تو اس بات کا خیال رکھو کہ تمہارے فیصلہ کی بنیاد احکام الہی پر ہو اس کے بغیر تمہارا عبادت کا دعویٰ غلط ہوگا۔ایک شخص یہ کہتا ہے کہ میں خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کی پرستش نہیں کرتا لیکن جس وقت محلہ میں کوئی ہدایت دینی ہو کوئی حکم جاری کرنا ہوتو وہ تعصب اور حسد سے کام لیتا ہے اور اگر کوئی پریذیڈنٹ (President) تکبر حسد یا تعصب کی بناء پر فیصلہ کرتا ہے تو خدائے واحد کی عبادت کیسی کہ اس نے خدا کے لئے اس چیز کا بھی خیال نہیں رکھا کہ وہ تعصبات سے پاک ہو کر اور حسد کو کلی طور پر اپنے خیالات سے باہر پھینک کر اپنے فیصلے کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خواہ فیصلہ حکم، ہدایت یا ڈائر کٹو کی شکل میں ہو جو ایک قاضی باہم جھگڑوں میں کرتا ہے وہ فیصلہ خالصہ اللہ کے لئے ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فیصلہ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایت کے ماتحت ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو۔