انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 651 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 651

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۵۱ سورة القدر اور لیلتہ القدر کے اس زمانہ میں ہمارے رب نے یہ فیصلہ کیا کہ ان تمام اندھیروں کو دنیا سے مٹادیا جائے گا اور وہ جو اپنے فیصلوں پر قادر اور وہ جو اپنے وعدوں کو وفا کرنے والا ہے اس نے وہ تمام اندھیرے دنیا سے مٹادئے اور اس طرح اسلام کا نور تمام دنیا پر چھا گیا کہ معلوم دنیا میں سے کوئی علاقہ ایسا نہ رہا جو اسلام کے نور سے محروم ہو اس کے بعد پھر تنزل کا ایک زمانہ آیا کیونکہ اسلام کی روح کو مسلمان بھول چکا تھا لیکن اب پھر اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا زمانہ پیدا کیا اور اس زمانہ میں ہمیں بھی پیدا کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ بھی لیلۃ القدر ہی کا زمانہ ہے جس زمانہ کے متعلق الہی تقدیر ہے کہ اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کیا جائے گا اور دنیا کی تمام اقوام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کی جائیں گی۔پس ہمارا یہ زمانہ بھی شیطانی ظلمتوں، اسلامی قربانیوں اور بہترین انعامات کے لحاظ سے لیلتہ القدر ہے اور اس زمانہ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ انتہائی قربانیاں لی جائیں گی اور عظیم انعامات کا وارث کیا جائے گا۔(خطبات ناصر جلد اول صفحه ۱۰۱۴ تا ۱۰۲۰) قرآن کریم کی اس سورۃ میں بھی جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا ذکر ہے اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں یہ بھی ہے کہ ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں لیلة القدر کی تلاش کرو ( ترمذی کتاب الصوم باب ماجاء في ليلة القدر ) اور ہماری اسلامی کتب میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ رمضان کے علاوہ بھی کسی زمانہ یا کسی وقت یا کسی رات ( بعض دفعہ کوئی ایسا زمانہ ہوتا ہے کوئی ایسا وقت ہوتا ہے یا کوئی ایسی رات ہوتی ہے جس میں کسی انسان کے لئے لَيْلَةُ الْقَدْرِ ظاہر ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان مختلف باتوں کی وضاحت کرتے ہوئے اور ان پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ تین قسم کی ہے۔ایک وہ لَیلَةُ الْقَدْرِ جس میں دنیا کی طرف (اصلاح کے لئے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کا نزول ہوا۔دوسری اور ایک وہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ ہے جس کے متعلق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اسے ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو اور تیسری ایک وہ لیلة القدر ہے کہ جو ہر انسان کو میسر آ سکتی ہے مگر اس وقت جب اس کو ایک صاف حالت روحانی میسر آ جائے یعنی انسانی روح غیر اللہ سے کلی طور پر منقطع ہو کر آستانہ الہیہ پر بہہ نکلے۔یہ صافی وقت جس میں انسان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حقیقی معنوں