انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 650
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة القدر ظلمت کا زمانہ ہوتا ہے لیکن ظلمت کے اس زمانہ میں اندھیرے کی ان گھڑیوں میں اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں اپنے بندوں کے لئے نور کا سامان پیدا کروں گا۔سب سے زیادہ ظلمت شیطان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پھیلائی اس سے زیادہ اندھیرے دنیا کی تاریخ میں ہمیں کہیں نظر نہیں آئیں گے اور سب سے روشن نور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں اور آپ کے طفیل ان اندھیروں میں سے ہی طلوع ہوا اور یہ رات (جس میں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اندھیروں کو دور کر دیا جائے گا) جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی اندھیری رات تھی ایسی اندھیری رات کہ اس سے بڑھ کر اندھیرا تصور میں بھی نہیں آ سکتا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ روشنی کے سامان پیدا کئے گئے اس قدر روشنی اور نور کہ انسان کی عقل حیران رہ جاتی ہے قیامت تک کیلئے وہ احکام دے دئے گئے وہ صراط مستقیم بتا دیا گیا جن پر چل کر انسان اپنے رب جو نُور السمواتِ وَالْأَرْضِ ہے کے نور سے نور حاصل کر کے اپنے ظاہر و باطن کو منور کر سکتا ہے۔تو یہ زمانہ بھی لیلۃ القدر کا زمانہ ہے یعنی فساد کا یعنی شیطانی حکومت کا یعنی اللہ تعالیٰ کے بعد کے اندھیروں کا وہ زمانہ جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ روشنی پیدا کی گئی اور ان اندھیروں کو دور کیا گیا اندھیروں کا یہ زمانہ وہ تھا جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر ایمان لانے والوں نے انتہائی دکھ اٹھائے ان لوگوں کے لئے دنیا اندھیر تھی دنیوی لحاظ سے روشنی کی کونسی کرن تھی جو وہاں تک پہنچ سکتی تھی ہر طرف سے کفر نے ان کو گھیرا ہوا تھا ہر قسم کی قربانیاں تھیں جو ان سے لی جارہی تھیں مردوں سے بھی اور عورتوں سے بھی وہ کون سی بے عزتی تھی جوان مسلمان عورتوں کو نہ دیکھنی پڑی ہو ہر قسم کے اندھیروں کی دیواریں شیطان مسلمانوں کے گرد کھڑی کر رہا تھا اور اللہ تعالیٰ ان سے انتہائی قربانیاں لے رہا تھا اس وعدہ کے ساتھ کہ میں تمہارے لئے اپنی تقدیر کی تاریں ہلاؤں گا اور اتنے انعامات دوں گا اتنے فضل تم پر نازل کروں گا آسمان سے تم پر نور کی کچھ اس طرح بارش برسے گی کہ یہ سب اندھیرے کا فور ہو جائیں گے اور مٹ جائیں گے اور شیطان اپنے تمام اندھیروں اور ظلمتوں کے ساتھ بھاگ جائے گا اور حق اپنے تمام نوروں کے ساتھ دنیا میں قائم ہو جائے گا۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ لیلتہ القدر کا زمانہ تھا اس معنی میں کہ اگر چہ شیطان انسانی روح پر پوری طرح غالب آ گیا ہوا تھا اور مسلمانوں کو انتہائی قربانیاں اس وقت دینی پڑی تھیں لیکن