انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 652
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۵۲ سورة القدر میں سجدہ ریز ہونے کی توفیق ملتی ہے یہی دراصل اس کے لئے قدر کی رات بن جاتی ہے۔ليْلَةُ الْقَدْرِ کے ایک معنے لیلۃ کے ہیں اور دوسرے معنے قدر کے ہیں۔ليلة عربی میں بطور مؤنث یوھ کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جس طرح یوم کے معنے محض دن کے نہیں بلکہ زمانہ کے بھی ہیں اسی طرح لیلة کے معنے محض رات کے نہیں بلکہ ان میں زمانے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے جس طرح یوم کے معنے ایک خاص زمانے کے بھی ہوتے ہیں اسی طرح لیلة یعنی رات کے معنوں میں بھی ایک خاص قسم کے زمانہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔جب یوم کے لفظ سے زمانے کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے تو اس میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں اور عظمتوں اور اس کے جلال اور اس کی صفات کے مختلف جلوؤں کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے کہ اللہ نے زمین اور آسمان کو ستّة أَيَّامٍ (هود: (۸) یعنی چھ زمانوں میں زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے یہاں یوم سے مراد وہ دن نہیں جو ہر روز ہم پر طلوع ہوتا ہے بلکہ ایک زمانہ مراد ہے اور ہر چیز کی پیدائش کے لئے ایک زمانہ مقدر ہوتا ہے مثلاً بچہ کی پیدائش کے لئے نو ماہ کا زمانہ ہوتا ہے۔اس عالمین کی یا اس کے اندر جو Galaxies) کہکشاں ) ہیں ان کی پیدائش کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا لمبا زمانہ مقرر کر دیا ہے بعض سائنسدانوں کا یہ خیال ہے کہ ستاروں کے مختلف خاندان جو بے شمار ستاروں پر مشتمل ہوتے ہیں جن کو انگریزی میں Galaxy ( کہکشاں ) کہتے ہیں ان کا آپس میں ایسا تعلق ہے ایک مربوط تعلق پایا جاتا ہے کہ ان ستاروں کا سارے کا سارا جمگھٹا اکٹھا ایک جہت کی طرف بھی حرکت کر رہا ہے اور ساتھ والی دائیں بائیں یا اوپر نیچے جو دوسری Galaxies ( کہکشاں ) ہیں وہ بھی ایک خاص جہت کی طرف حرکت کر رہی ہیں اور ان کا درمیانی فاصلہ آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔پس جس وقت دو Galaxies) کہکشاں) کے درمیان یعنی ستاروں کے ان دو خاندانوں کے درمیان جن کے افراد بے شمار ہیں اور انسان ان کو گن نہیں سکتا تو ان بے شمار ستاروں پر مشتمل دو خاندانوں کے درمیان جب اتنا فاصلہ ہو جاتا ہے کہ ستاروں کا ایک اور خاندان وہاں سما سکے تو اللہ تعالیٰ کے امر اور حکم سے وہاں ایک اور Galaxy ( کہکشاں) پیدا ہو جاتی ہے۔ستاروں کا ایک اور خاندان پیدا ہو جاتا ہے یہ صحیح ہے کہ اس وقت تک انسانی دماغ نے خواہ اس نے سائنس میں