انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 635 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 635

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۳۵ سورة التين دوسرے ان زبر دست ادوار میں سے آخری عظیم انقلاب کے نتیجہ میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں کا ایک گروہ اپنی قوتوں کا صحیح استعمال نہ کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی سزا کا مستحق ہو جاتا ہے اور جن انعامات کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان میں قو تیں اور استعدادیں پیدا کی تھیں ان انعامات کے حصول سے وہ محروم ہو جاتے ہیں اور ان کا نام اس گروہ میں شامل ہو جاتا ہے جسے ہم اسفل سفدِین کہتے ہیں کیونکہ ایک چیز مثلاً زمین سے اٹھی اور پچاس گز او پر گئی۔اگر وہ نا کام ہوگی تو پچاس گز نیچے آجائے گی۔ایک چیز جس میں طاقت رکھی گئی ہے دوسو گز اوپر جانے کی تو وہ دوسوگز او پر گئی اور پھر اپنی جگہ پر واپس آ جائے گی۔انسان میں طاقت رکھی گئی ہے نچلی سے نچلی جگہ سے بلند ہوکر بلند سے بلند تر مقام تک پہنچنے کی۔جس وقت وہ نا کام ہوگا تو مخلوقات کے مقابلے میں بھی کہیں نیچے جا گرے گا۔یہی قانون قدرت ہے یہی قانون شریعت ہے اور یہی قانون روحانیت ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان انقلابات کا یہ نتیجہ ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ لوگ آسفل سفلین کے گروہ میں اس لئے شامل ہو گئے کہ انہوں نے اپنی قوتوں اور استعدادوں کا صحیح استعمال کر کے ان نعمتوں کو حاصل نہیں کیا جن کے لئے اس عالمین کو اور ان کے وجود کو پیدا کیا گیا تھا۔تیسری چیز ان انقلابات سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ باوجود اس کے کہ شیطان ظلمات کا مالک اس بات میں تو کامیاب ہو گیا کہ اس نے انسانوں میں سے ایک گروہ کو روحانی ترقیات سے محروم کر کے أَسْفَلَ سَفِلین کے زمرہ میں شامل کر دیا لیکن ہزار ہا سال کی کوشش کے نتیجہ میں وہ حقیقی معنی میں کامیاب نہیں ہوا کیونکہ انسان کو جن رفعتوں کے لئے پیدا کی گیا تھا اور اس کی رفعتوں کی طرف جو حرکت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کی گئی تھی اس کے اندر ایک تسلسل پایا جاتا ہے یہ بھی نہیں ہوا کہ شیطانی گروہ جو اسفل سفلین کے زمرہ میں ہے انہوں نے اس روحانی حرکت کو روک دیا ہو اور معطل کر دیا ہو۔ایسا کبھی نہیں ہوا کیونکہ جو ایمان اور عمل صالح بجالانے والا گروہ ہے اس کے لئے ان انقلابات میں ہمیں آجرٌ غَيْرُ مَمنون نظر آتا ہے ایک تسلسل ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتا۔حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا۔پھر اس انقلاب عظیم سے شروع ہوا اور قیامت تک ممتد ہے۔پس شیطان کی ہزاروں سال کی کوشش سے جو امر ثابت ہوا وہ شیطانی منصوبوں کی ناکامی اور اس