انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 634
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۳۴ سورة التين جو سارے کے سارے لغوی معنی کے مطابق ہی ہیں۔اس وقت میں جو معنی بیان کروں گا وہ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ تمام قوتیں اور استعداد میں عطا فرمائی ہیں وہ سب عالمین کی پوری طرح تسخیر کرسکتا ہے۔تسخیر کے معنی عربی میں یہ ہوتے ہیں کہ اس نے اس عالمین میں جو کچھ بھی پیدا کیا ان سے خدمت لینے کی اہلیت انسان کے اندر پیدا کر دی گئی ہے۔اسے وہ تمام قولی دئے گئے ہیں جن کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کر سکتا ہے اور (۲) دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے وہ تمام قوتیں انسان میں ودیعت فرما ئیں جن کے نتیجہ میں ان مخلوقات سے اس رنگ میں خدمت لے سکتا ہے کہ وہ اسے اس کے قومی کی آخری نشو ونما تک لے جائیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی منزلیں طے کرتا ہوا خدا کی رضا کو زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکے یعنی وہ قو تیں جو ایک طرف پیدائش عالمین کے مقصد کو پورا کرنے والی ہیں اور جس کا منتہاء مقصود حدیث قدسی لَوْ لَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے بہر حال اس عالمین کی تمام چیزیں اس لئے پیدا کی گئی ہیں کہ ان سے انسان فائدہ حاصل کرے انسان کو وہ ساری قوتیں دی گئیں کہ انسان اس سے فائدہ حاصل کر سکے اور ان سے خدمت لے سکے تو ایک طرف انسان اس قابل ہے اور اس قابلیت کو اس نے ثابت کیا ہے کہ اس نے مخلوقات سے خدمت لی اور اس کے نتیجہ میں مقصد پیدائش عالمین پورا ہوا اور دوسرے اسے وہ تمام قو تیں بخشی گئیں تا کہ اس عالمین کی خدمت کے نتیجہ میں وہ زیادہ سے زیادہ روحانی ترقیات حاصل کر سکے اور احسن رنگ میں اللہ تعالیٰ کا عبد بن سکے جس سے پیدائش انسانی کا مقصد پورا ہو۔پس یہ خدمتیں ایسی ہیں کہ پیدائش (خلق) کے ہر دو مقاصد کو پورا کرنے والی ہیں یعنی پیدائش عالمین کے مقصد کو بھی اور پیدائش انسانی کے مقصد کو بھی پورا کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان انقلابی ادوار پر غور کرو جن کا یہاں ذکر کیا گیا ہے جو حضرت آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک پھیلے ہوئے ہیں (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر انسان چوتھے دور میں داخل ہو چکا ہے ) تم ان پر غور کرو تو اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا گیا ہے۔انسان کی جدو جہد اور اس کے مجاہدہ سے پیدائش عالم کا مقصد بھی پورا ہوتا ہے اور اس سے پیدائش انسانی کا مقصد بھی پورا ہوتا ہے۔