انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 588
۵۸۸ سورة الانشقاق تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث خدا کی راہ میں آگے بڑھ رہا ہو تو کسی اور کو یہ طاقت نہیں کہ وہ اس کی ٹانگ پکڑ کر پیچھے کھینچ لے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو طاغوتی طاقتیں ہیں خدا کے بندوں پر ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور ان کا کوئی حربہ کارگر نہیں ہوتا۔وہ اپنے منصوبہ میں کامیاب نہیں ہوتیں۔چوتھے اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسان کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ اپنی سی کوشش کر دکھائے۔بات یہ ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجز بندہ جو کچھ بھی پیش کرتا ہے اس کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں اور جو تھوڑا بہت وہ پیش کرتا ہے وہ اس کی ملکیت ہی نہیں۔مالک تو اللہ تعالیٰ ہے اور انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ بطور امانت کے ہے۔اگر انسان کو یہ کہا جاتا کہ وہ خدا کی عظمتوں کے مطابق کوشش کرے یا اگر یہ کہا جاتا کہ خدائی جلال کے مد نظر جتنی طاقت خرچ ہونی چاہیے ہر انسان لقائے الہی کے لئے اتنی طاقت خرچ کرے تو کوئی ایک انسان بھی خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل نہ کر سکتا۔اس لئے کہا یہ گیا ہے کہ اے انسان! (انسانوں میں سے ہر فرد مخاطب ہے) تو اپنے دائرہ استعداد کے اندر جتنی کوشش کر سکتا ہے اُتنی کوشش تجھے کرنی پڑے گی تب خدا کا تقرب تجھے حاصل ہوگا اور تیرے لئے وصل اور لقائے الہی کے سامان پیدا ہوں گے۔اگر تیری طاقتیں خدا اور غیر اللہ میں بٹ جائیں گی، اگر تو کچھ خدا کے حضور پیش کرے گا اور کچھ اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کے سامنے پیش کرے گا، اگر تیرا سب کچھ خدا کیلئے نہ ہوگا تو پھر گویا تو نے اپنی خداداد طاقت اور استعداد کے مطابق اپنا پور از ور نہیں لگا یا اس لئے تیری تھوڑی سی کوشش گادی الی ربک کے مطابق نہیں ہوگی اور تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حاصل نہیں کر سکے گا۔پس ایک طرف فرمایا انسان کمزور ہے یعنی اس کے ساتھ بہت سی ایسی چیزیں لگی ہوئی ہیں جن کو بشری کمزوریاں کہتے ہیں اور جن کے نتیجہ میں انسان سے غفلتیں ہو جاتی ہیں مگر اس کے باوجود فرمایا کہ اگر انسان کی نیت پوری کوشش کرنے کی ہوگی اور وہ اپنی خامیوں کو دور کرنے کی بھی پوری کوشش کرے گا تب اس سے اگر کبھی کبھی غلطیاں، کوتاہیاں، گناہ، کمزوریاں یا سستیاں سرزد ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت ان کے اثرات کو دور کر دے گی۔یعنی انسان کی جتنی طاقت ہے اگر اس کے مطابق اس کی کوشش ہوگی اور بغیر فساد کے ہوگی اور خلوص نیت کے ہوگی اور خدا تعالیٰ کی محبت ہوگی اور خدا کی محبت کے حصول اور اس کی رضا کے لئے ہوگی تو باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی تو کوئی