انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 587
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۵۸۷ سورة الانشقاق بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الانشقاق آیت يَايُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلى رَبَّكَ كَدْحًا فَ فلقيه اس مختصر سی آیت میں جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے بہت سی باتیں بیان ہوئی ہیں۔اول یہ کہ انسان کو وصال الہی کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے یعنی جہاں تک انسان کے لئے ممکن ہے اسے خود کوشش کرنی پڑتی ہے اور پورا زور لگا کر کرنی پڑتی ہے۔گویا جب انسان اللہ تعالیٰ سے وصال اور اس کی رحمتوں کو حاصل کرنے کے لئے پوری کوشش کرے گا تب اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے اسے نوازے گا اور اپنی لقاء یعنی رضا اور ملاقات کے سامان اس کے لئے پیدا کرے گا۔دوسرے یہ کہ کوشش کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان آزاد ہے۔اللہ تعالی کے فضلوں کے حصول کے لئے کوئی شخص کسی دوسرے کے لئے کوشش نہیں کر سکتا ، اگر کوئی کرے گا بھی تو ایسی کوشش بے نتیجہ ہوگی۔اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔غرض اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو پانے کے لئے ہر انسان کو خود کوشش کرنی پڑتی ہے کسی دوسرے کی کوشش کام نہیں آسکتی۔تیسرے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو شخص خدا کے حضور عاجزانہ جھکتا ہے اور قرب الہی کو پانے کے لئے ہدایت کی راہوں کو اختیار کرتا ہے اور خدا سے قریب سے قریب تر ہونے کی جدو جہد کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کی قدرت ، عظمت اور جلال غیر اللہ کو اس بات سے منع کرتے ہیں کہ وہ انسان کو اس کی کوشش سے باز رکھے یا اس کی کوشش کو ناکام بنادے یعنی یہ اعلان کرے کہ اس کی کوشش ناکام ہوگی۔ویسے شیطان اور اس کا گروہ انسان کے دل میں وسوسے ڈالتے رہتے ہیں لیکن میں اس وقت شیطانی طاقتوں کی بات نہیں کر رہا، میں تو یہ بتارہا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف کوئی شخص بلند ہورہا ہو۔وہ