انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 473
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۷۳ سورة المنافقون گے ذلیل کر دیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسا نہیں ہوسکتا۔تم جاہل ہو تم کو پتہ نہیں کہ عزت اس کو ملتی ہے جس کا تعلق عزت کے سرچشمہ سے ہوتا ہے۔اگر تم اپنا تعلق عزت کے اس سر چشمہ سے قائم نہیں کرو گے۔اگر تم اپنا رشتہ اطاعت اور رشتہ محبت اس سر چشمہ سے نہیں جوڑو گے، اگر تم اس انسانِ کامل صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت اور پیار اور اطاعت اور فرمانبرداری اور جاں نثاری کا تعلق قائم نہیں کرو گے جس کے طفیل اب ساری عزتیں تقسیم ہوں گی تو پھر تمہیں یا تمہارے منصوبہ کے نتیجہ میں کسی اور کو کوئی عزت نہیں مل سکے گی۔توحید کے قیام کے لئے جیسا کہ میں نے کہا ہے دو ذمہ داریاں ہیں۔(۱) اپنے نفسوں میں تو حید کو قائم کرنا (۲) دنیا میں توحید کو قائم کرنا۔اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے تو بے شمار ہیں وہ گنے نہیں جا سکتے۔اس کی صفات بھی بے شمار ہیں لیکن جن صفات کو اس نے ہماری زندگی میں ظاہر کیا ہے ان میں سے چار اُمہات الصفات کہلاتی ہیں۔یعنی اس کا رب ہونا ، اس کا رحمن ہونا ، اس کا رحیم ہونا اور اس کا مالک یوم الدین ہونا۔اگر ہم ان چار صفات کو پوری طرح سمجھنے لگیں ، اگر ہمیں یہ معلوم ہو جائے اور اس حقیقت کا اظہار ہم پر ہو جائے کہ رب کے کیا معنی ہیں۔رحمن کی صفت کے جلوے کس طرح ظاہر ہوتے ہیں۔رحیمیت اپنا ظہور کس طرح کرتی ہے اور ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ اپنے قادر نہ تصرف کو دنیا کے سامنے کس طرح پیش کرتا ہے تو دوسری صفات کا سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔اس لئے سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے ان چار امہات الصفات کو بیان کیا اور ان کی طرف توجہ دلائی۔۔۔۔۔۔پس جماعت کو یہ نہ بھولنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی اصل غرض یہی ہے کہ دنیا میں توحید کو قائم کیا جائے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو قائم کیا جائے۔یہ ایک چھوٹا سا فقرہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا لیکن اس چھوٹے سے فقرہ میں جیسا کہ میں نے ابھی مختصر بیان کیا ہے ہم پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔(۱) اللہ تعالیٰ کی صفات کو سمجھ کر اپنے نفسوں میں انہیں پیدا کرنا (۲) ان صفات کا اپنے نفسوں میں جلوہ دکھا کر دنیا کو اللہ تعالیٰ کی صفات سے متعارف کروا کر انہیں اس طرف لے کر آنا کہ وہ بھی اپنی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کی صفات پیدا کریں (۳) تیسری ذمہ داری ہم پر یہ عائد ہوتی ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو اپنے نفسوں میں قائم کرنے والے ہوں یعنی ہمارے ہر قول اور ہر فعل سے یہ ثابت ہو کہ