انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 474
التفسیر حضرت عليلة اسمع الثالث ۴۷۴ سورة المنافقون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی اب بنی نوع انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ساری عزتوں کا سر چشمہ ہیں اور ہر فیض کی کنجی آپ کو عطا کی گئی ہے۔آپ کا وجود خدا نما ہے اور اللہ تعالیٰ کو پانے کے لئے اس کی صفات کی معرفت حاصل کرنے اور اس کے قرب کو پالینے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور آپ کی اطاعت ضروری ہے ہمیں چاہیے کہ ہمارا ہر فعل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے مطابق ہو ورنہ دنیا یہ کہے گی کہ تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فلاں اُسوہ کی پیروی نہ کر کے آپ کی عزت پر یہ دھبہ لگایا ہے۔تمہارے نزدیک وہ فعل خدا کی نگاہ میں اتنا معزز نہیں تھا کہ اس کی پیروی کی جائے۔غرض ہمارے فعل کے نتیجہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر دنیا کی نگاہ میں نعوذ باللہ ایک داغ پیدا ہوتا ہے حقیقتا تو وہ داغ نہیں ہوتا کیونکہ اس داغ کے ہم ذمہ دار ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذمہ دار نہیں لیکن دنیا کی نگاہ میں ایک داغ پیدا ہوتا ہے۔دراصل یوں سمجھنا چاہیے کہ اس کے نتیجہ میں دنیا کی آنکھ میں ایک دھبہ پیدا ہوتا ہے۔جب کوئی دنیا دارا اپنی اس داغدار آنکھ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہے تو وہی دھبہ جو اس کی آنکھ کا ہے آپ کی شخصیت پر بھی اسے نظر آتا ہے جیسے بڑی عمر کے اور بوڑھے لوگ بعض دفعہ یہ کہتے ہیں کہ ہماری نظر دھندلا گئی ہے یعنی ہر چیز ہمیں دھندلی دھندلی نظر آتی ہے حالانکہ وہ چیز دھند لی نہیں ہوتی بلکہ جو آنکھ دھندلا گئی ہے اس کا اثر اس کے نفس پر یہ پڑا کہ وہ چیز اُسے دھندلی نظر آئی۔پس ہماری غلطی کے نتیجہ میں یہ نگاہ جس کو ہم نے داغدار کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک داغ دیکھتی ہے۔گو یہ حقیقت ہے کہ وہ داغ وہاں نہیں ہے بلکہ اس آنکھ میں داغ ہے لیکن اس کا نتیجہ تو اتنا ہی بھیانک اور خطر ناک ہے جتنا نعوذ باللہ اس صورت میں ہوتا کہ اگر ممکن ہوتا تو اس کی نظر کی طرح آپ کی شخصیت پر بھی داغ ہوتا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جس کو ہماری آنکھ داغدار دیکھتی ہے اس کی ہم پیروی کیوں کریں اور قصور ہمارا ہوتا ہے کیونکہ ہم نے اپنی غفلت اور بے توجہی کے نتیجہ میں اور اپنی سستیوں اور اُن وساوس کے نتیجہ میں جو شیطان نے ہمارے دل میں پیدا کئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو چھوڑ دیا ہم نے آپ کے بعض نمونوں کو چھوڑ دیا اور اس طرح پر ہم اس چیز میں کامیاب نہ ہوئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم کریں۔یہ ایک بڑا نازک معاملہ ہے۔بڑی اہم ذمہ داری ہے جو ہم پر عائد کی گئی ہے۔