انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 472
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۷۲ سورة المنافقون کے لئے اپنی جن صفات کے جلوے دکھائے آپ نے ان صفات کو کامل طور پر اپنے اندر جذب کرلیا اور یہ کام کامل فنا کے بغیر ممکن نہیں تھا۔غرض آپ نے اللہ تعالیٰ میں ہو کر زندگی ڈھونڈنے کیلئے اور اس سے حیات پانے کے لئے اپنے اوپر ایک کامل فنا اور ایک کامل موت طاری کی۔تب آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایک حقیقی اور ایک کامل زندگی عطا کی اور چونکہ فنا اور عبودیت کے اس ارفع مقام کو آپ کے سوا اور کسی نے نہیں پایا تھا اور اسی کے نتیجہ میں چونکہ آپ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم تھے اس لئے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے زیادہ معزز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور آپ کے فیوض کے نتیجہ میں پھر مومنوں نے اپنی اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس عزت کو حاصل کیا جیسا کہ اس آیت میں جو میں نے ابھی پڑھی ہے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اصل عزت تو اللہ تعالیٰ کی ہے۔پھر اس کا مظہر اتم ہونے کی حیثیت میں اس کامل اور مکمل رسول کی ہے جو کامل اور مکمل شریعت لے کر آیا جو تمام انبیاء کا فخر اور تمام مخلوقات کا شرف ہے۔پھر اس رسول کے طفیل ان لوگوں کو عزت ملتی ہے جو اس پر ایمان لائے اور اس کی تعلیم پر عمل کرتے اور اس سے تعلق محبت کو جوڑتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ اگر تم میری نگاہ میں محبوب بننا چاہتے ہو تو تم میرے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اتباع کرو تم اپنے مقام کے لحاظ سے جتنی جتنی اطاعت کی سیڑھیاں چڑھتے چلے جاؤ گے اسی قدر میری محبت تمہیں حاصل ہوتی چلی جائے گی۔اگر تم میری نگاہ میں عزت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس پر ایمان لاؤ۔اس کی کامل اطاعت کرو۔اس کے مقام کو پہچانو اس عزت عظیمہ کا عرفان حاصل کرو جو اسے میری نگاہ میں حاصل ہے۔زندگی کے ہر شعبہ میں آپ کے ہر فعل کو ایک معزز فعل سمجھو اور اس کی اتباع میں اپنی نجات دیکھو تب تم میری نگاہ میں عزت پاؤ گے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ منافق اس بات کو سمجھتے نہیں۔وہ بڑے بدقسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت کو عزت نہیں سمجھتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم جسے چاہیں معزز بنا دیں ہم جسے چاہیں ذلیل کر دیں حالانکہ عزت کا سرچشمہ نفاق نہیں ہے، نہ عقلاً اور نہ شرعاً۔عزت کا سر چشمہ تو اس خدائے پاک کی ذات ہے جو تمام عزتوں کا مالک ہے لیکن منافق جس کی نگاہ دنیا کے حجاب سے پرے نہیں جاتی دنیا میں اُلجھی رہتی ہے۔یہ سمجھتا ہے کہ ہم مختلف قسم کا پرو پیگنڈا کر کے یا مختلف قسم کی سازشیں کر کے یا منصوبے باندھ کر جس کو چاہیں گے عزت دیں گے اور جس کو چاہیں