انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 386 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 386

تفسیر حضرت علیلة اسم الثالث ۳۸۶ سورة الرحمن اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس عالمین میں ایک تو میزان کا قانون بنایا ہے دوسرے ہم نے عالمین میں ایک اور اصول قائم کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : ١٣) اس عالمین کی ہر شے کو بلا استثنا یہ حکم ہے کہ وہ انسان کی خدمت میں لگی رہے یعنی وہ گلیکسی (galaxy) اں تک ہمارا تخیل بھی نہیں پہنچا۔وہ ستارے جن کی تعداد ہم گن نہیں سکے ان کو خدا تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ تم انسان کی خدمت کرو۔تیسرا اصول جو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا اسلام نے ہمیں بتایا قرآن کریم نے ہمیں بتایا وہ یہ ہے کہ انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا گیا ہے یعنی جہاں ایک طرف عالمین کو انسان کی خدمت کے لئے حکم دیا گیا ہے وہاں انسان کو یہ طاقت دی گئی ہے کہ ہر وہ خدمت جو یہ عالمین انسان کی کر سکتا ہے وہ اس عالمین سے لے۔خدمت لینے کی ایسی قوتیں اور استعداد میں دی گئی ہیں کہ جو عالمین کے نزدیک چیزیں یا اجزا ہیں یا دور کے اجزاء ہیں ان سے خدمت لینے کی طاقت اور قوت اور استعداد انسان کو دی گئی ہے یہ بڑے زبردست اصول ہیں جن کا اعلان کیا گیا ہے یہ جو میزان ہے یہ اپنے مختلف یونٹوں میں اور حصوں میں منتشر اور پراگندہ نہیں ہے بلکہ کسی ایک جگہ کو آپ پکڑ لیں تو دیکھیں گے کہ پھر اس کا تعلق اگلے کے ساتھ پھر اس کا اگلے کے ساتھ پھر اس کا اگلے کے ساتھ پھر اس کا اگلے کے ساتھ پھر اس اگلے کے ساتھ یہاں تک کہ اس میزان میں اس بیلنس (balance ) میں ہر چیز بندھ جاتی ہے پھر جب ایک مکمل یو نیورنس بنتی ہے تو وہ اپنی تکمیل میں بیلنسڈ (balanced ) ہوتی ہے یعنی جو بیلنس (balance) جو نظام ہائے شمسی کا اپنی گلیکسی (galaxy) ہے اور ٹیکسیز (galaxies) کا اپنے درمیان ہے یہی نظام انسان کے دل کے کیمیکل اجزاء میں اور گلیکسی (galaxy) کے اندر بھی ہے کیونکہ یہ جو بیلنس (balance) ہے یہ جو میزان کا اصول ہے یہ جو توازن قائم کیا گیا ہے اس میں بھی آگے انتشار نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی واحدانیت اس کو برداشت نہیں کرسکتی۔گل خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۲۰۷ تا ۲۱۱) ڈاکٹر اب اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق پروٹین میں بھی ایک توازن قائم رکھنا چاہیے۔خدا کو تو وہ نہیں جانتے۔یہ فقرہ میں کہہ رہا ہوں۔بہر حال ڈاکٹر یہ کہتے ہیں کہ انسان نے اگر صحت مند رہنا ہے تو اس کو اپنی روزانہ کی پروٹین کی مقدار میں بھی آگے یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ