انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 385
۳۸۵ سورة الرحمن تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ہوتی ہیں اصل صحت کو جو چیز قائم رکھتی ہے وہ یہی بیلنسڈ ڈائٹ (balanced diet) یعنی توازن غذا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس دنیا میں مختلف غذائی اجزاء اور انسانی صحت کے ساتھ بیلنسڈ (balanced ) یعنی توازن کو قائم کیا ہے خدا تعالیٰ کہتا ہے میں نے عالمین میں اس میزان کا اصول چلایا ہے یہ میری قدرت کی بنیاد ہے دست قدرت سے یہ کائنات بنی اور اس میں توازن پایا جاتا ہے مثلاً میں دوسری انتہا کو لیتا ہوں جو وسعتوں والی انتہاء ہے۔ہمارا ایک سورج ہے اس کے گرد چند سیارے ہیں جسے نظام شمسی کہتے اس خاندان میں زمین بھی شامل ہے یہ ایک خاندان ہے اور اتنی زیادہ تعداد میں ہے کہ ان کو انسان ابھی تک گن بھی نہیں سکا وہ جب اکٹھے ہوجائیں تو ان کا ایک قبیلہ بنتا ہے اور اس کو ٹیکسی (galaxy) کہتے ہیں اور یہ تعداد میں بے شمار ہیں ان خاندانوں کے مجموعے یعنی نظام ہائے شمسی کا مجموعہ گلیکسی (galaxy) کہلاتا ہے جولوگ ستاروں کا علم رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جو گلیکسیز (galaxies) ہیں ان کی تعداد ہم سے گئی نہیں گئی۔میں نے بتایا ہے کہ میں اس کائنات کی وسعتوں کی بات کر رہا ہوں بیلنس (balance) یعنی توازن کو قائم رکھنے کے لئے نظام شمسی کو لے لو فرما یا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسبان ایک اصول ہے جو ایک رفتار پر ایک جہت میں ایک ہی زاویہ اور محور پر کارفرما ہے زمین ایک ہی محور پر گردش کرتی ہے۔اسی طرح چاند ہے سائنسدان کہتے ہیں کہ اگر چند نیزوں کے فرق سے زیادہ قریب ہوتی زمین سورج سے تو یہاں اتنی گرمی ہوتی کہ انسان زندہ نہ رہ سکتا اور اگر چند نیزوں کے فرق سے پرے ہوتی ، دور ہوتی تو یہاں اتنی سردی ہوتی کہ انسان زندہ نہ رہ سکتا۔یہی بیلنس (balance) ہے جسے وضع المیزان میں بیان کیا گیا ہے۔اس کائنات میں ایک خاص توازن قائم کیا گیا ہے سورج اور ان زمین کے درمیان ایک خاص فاصلہ ہے۔زمین ایک محور، اس کی اپنی جہت اور رفتار ہے جس کے مطابق وہ گھوم رہی ہے۔غرض قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے اعلان کر دیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے اس یو نیورس اس عالمین میں میزان یعنی تو ازن کا ایک اصول قائم کر دیا ہے آج کل کئی دہر یہ لوگ کہہ دیتے ہیں خدا ہے ہی نہیں یعنی وہ خدا نہیں جس نے چودہ سوسال پہلے ہمیں بتادیا تھا کہ یہ اصول قائم ہے قرآن کریم ایسے ہی کئی دوسرے علوم سے بھرا ہوا ہے۔انسان کو تو پچھلی دو ایک صدی میں ان علوم کا پتہ لگنا شروع ہوا ہے جو اس میں بتائے گئے ہیں۔