انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 387
تفسیر حضرت خلیفہ اسیح الثالث ۳۸۷ سورة الرحمن اتنے فیصد میں گوشت سے حاصل کروں گا ( گوشت کی آگے پھر کئی قسمیں بن جاتی ہیں مچھلی وغیرہ لیکن اس کو میں چھوڑتا ہوں ) اور اتنے فیصد میں پنیر سے حاصل کروں گا اور اتنی دودھ سے لوں گا اور اتنی بادام وغیرہ سے لوں گا اور اتنی میں Legumes یعنی دالوں سے لوں گا۔دالوں میں سے کسی میں کم پروٹین ہوتی ہے اور کسی میں زیادہ۔بہر حال خدا تعالیٰ کی شان ہے اس نے بے تحاشا چیز میں بنادیں اور ہمیں کہا کہ وَضَعَ الْمِيزَانَ اَلَا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ کہ اس نے میزان پیدا کیا ہے اور تمہیں حکم یہ ہے کہ اس اصول میزان کو اس بیلنس (balance) کو توڑنا نہیں۔اب انگریزوں نے بالکل اسی لفظ کا ترجمہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں بیلنسڈ ڈائٹ(balanced diet) یعنی متوازن غذا۔قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے کہا تھا کہ خدا نے ہر چیز میں میزان بنایا ہے اَلا تَطْغَوا في المیزان تمہیں حکم یہ ہے کہ اس اصول کو نہ توڑنا، اس بیلنس (Balance) کو اپ سیٹ (Upset) نہ کر دینا ورنہ تمہاری صحبتیں خراب ہو جائیں گی۔پس ہمیں یہ تو اختیار ہے کہ ہم متوازن غذا کھائیں، وزن کو برقرار رکھیں اور ہمیں ٹھیک صحت مل جائے یا ہم اس اصول کو توڑیں اور بیمار ہو جا ئیں۔اِذَا مَرِضْتُ (الشعراء: ۸۱) میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان خود بیمار ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی شفا کے لئے جھکتا ہے لیکن ہمیں یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ ہم گوشت کھائیں اور ہماری خواہش یہ ہو کہ ہمیں نشاستہ مل جائے اور ہمیں یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ ہم کھائیں پنیر اور یہ سمجھیں کہ ہمارے جسم میٹھے کا فائدہ حاصل کر لیں۔یہ بات ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔وہاں خدا تعالیٰ نے اپنا قانون چلایا ہے۔خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۳۵۱،۳۵۰) آیت ۲۸،۲۷ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَ يَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو بیماریوں اور امراض کے لئے شفا قرار دیا ہے۔یہ کتاب عظیم انسان کی اخلاقی بیماریوں کو بھی دور کرتی ہے اس کی روحانی بیماریوں کو بھی دور کرتی ہے اور ان زخموں کے لئے بھی جو انسان اپنی فطرت اور طبیعت کے تقاضا کے مطابق محسوس کرتا ہے اور اسے تکلیف پہنچاتے ہیں بطور پھا یہ کے کام آتی ہے۔