انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 384
۳۸۴ سورة الرحمن تفسیر حضرت خلیفة اسبح الثالث خدا تعالیٰ کے حکم کے نیچے ہیں رحمان خدا نے ان کو قانون قدرت میں باندھ دیا ہے اور آسمان کو اتنا بلند کر دیا ہے کہ آج کا مہذب اور ترقی یافتہ انسان علمی میدانوں میں اس عالمین کے ورلے کناروں پر کھڑا ہے تو جاہل لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ انہوں نے اس عالمین کو فتح کر لیا ہے لیکن سائنسدان اب بھی یہی کہتے ہیں کہ انہوں نے ( پنجابی کے ایک محاورہ کے مطابق ) عالمین کو ابھی بھورا ہے یعنی ناخنوں سے کھرچ کے ذراسی چیز ان کے ہاتھ میں آئی ہے اور اس پر انہوں نے ریسرچ کی ہے گویا اس کا ئنات میں اتنی وسعتیں ہیں کہ وہ ہمارے ذہن میں نہیں آسکتیں یہ سب کچھ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَضَعَ الْمِیزان کہ خدا نے اس یونیورس اس عالمین میں توازن بیلنس (balance) کا اصول قائم کیا ہے خدا نے انسان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ اس میزان کو ان سیٹ (unset) کر سکے لیکن اسے حکم یہ دیا ہے کہ تم نے ان سیٹ (unset) نہیں کرناور نہ فساد پیدا ہو جائے۔مختصراً ایک دوسری آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اَنْزَلَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ (الشوری: ۱۸) گویا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے اسی طرح میزان کے اصول کو حق کے ساتھ قائم کیا ہے۔یہ جو میزان ہے یا بیلنس (balance) ہے اس کا مفہوم ہر ایک بچے بڑے کے ذہن میں آ جانا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ ایسی نسبتیں قائم کی گئی ہیں جو عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے والی ہیں مثلاً ہم آج کی سائنس کے نیوٹریشن کے محاورہ میں کہتے ہیں۔بیلنسڈ ڈائٹ (balanced diet ) مثلاً یعنی متوازن غذا جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مثلاً انسان کو روزمرہ کی غذا میں اتنا گوشت کھانا چاہیے لحمیات کا حصہ، اتنی شکر کھانی چاہیے سٹارچ کا حصہ، اتنی چکنائی کھانی چاہیے مکھن وغیرہ کا حصہ، اتنا پھل کھانا چاہیے اتنے ڈرائی فروٹ یعنی اخروٹ اور بادام وغیرہ غرض اس بارہ میں انسان بڑی تفصیل میں گیا ہے۔اور اس کو لوگ کہتے ہیں بیلنسڈ ڈائٹ (balanced diet ) متوازن غذا اس معنی میں بیلنسڈ (balanced ) کہ اس کے مقابلہ میں انسانی صحت ترازو کے ایک پلڑے میں ہو اور دوسری طرف یہ بیلنسڈ (balanced) غذا ہو تو صحت قائم رہے گی نہ بنیوں کی طرح گھی اور میٹھا زیادہ کھا کر کہ پیٹ موٹے ہو جائیں وہ ہر وقت لڈو کھاتے رہتے ہیں اور نہ ان لوگوں کی طرح کہ جن بیچاروں کو پوری طرح کھانے کو بھی نہیں ملتا ان کی ہڈیاں نکلی ہوئی ہیں کھلے پچکے ہوئے آنکھیں اندر گڑھے میں گئی ہوئی