انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 383 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 383

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيُطنِ الرَّحِيمِ ۳۸۳ سورة الرحمن بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الرحمن آیت ۱ تا ۹ بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔دو الرّحمن لا عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الإِنْسَانَ عَلَمَهُ الْبَيَانَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ وَ النَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدُنِ وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ ) أَلَا تَطْغَوا فِي الْمِيزَانِ۔سورہ رحمان کی ان آیات میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمن ہے وہ کسی عمل کرنے والے کے عمل کے بغیر اپنی نعمتیں نازل کرتا ہے انسان ابھی اس کرہ ارض پر پیدا نہیں ہوا تھا کہ یہ زمین اور یہ آسمان آدم یعنی پہلے انسان کے استقبال کے لئے تیاریاں شروع کر چکے تھے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے انسان کے لئے ہاتھ میں ایک تو قرآن کریم دے دیا فرما یا عَلَمَ الْقُرْآنَ اور دوسری طرف فرما یا خَلَقَ الْإِنسان انسان کو اس نے بے انتہا قوتوں اور استعدادوں کے ساتھ پیدا کر دیا اور تیسرے یہ کہ علمه البيان اس کو بیان کرنے کی طاقت دی جس کے نتیجہ میں انسان کے ہاتھ میں تاریخ آئی خطوط اور مراسلات آئے اور علمی تحقیق کی جو فائنڈنگس (findings ) تھیں اور جونتائج نکلے تھے وہ انسان کو ملے اس لئے کہ ہمار خدا رحمان خدا ہے اس نے رحمانیت کے جوش میں انسان کو قرآن کریم دیا اور وہ ساری قوتیں اور طاقتیں عطا کیں جو انسان کو حیوان سے ممتاز کرنے والی ہیں اور اسے بیان دیا جس کے نتیجہ میں تاریخ کا مدون کرنا آسان اور ممکن ہو گیا اور خطوط اور مراسلات کا ایک طریق جاری ہو گیا اور علمی تحقیق سے یہ ثابت ہو گیا کہ چاند اور سورج اور ستارے اور جڑی بوٹیاں اور درخت وغیرہ سب