انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 382
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۸۲ سورة القمر انا نَاتِي الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَلِبُونَ (الانبیاء:۴۵) ہم ان کے ملک کی طرف بڑھ رہے ہیں اور کناروں کی طرف سے اس کو چھوٹا کرتے جارہے ہیں۔وہ اپنی تدبیر میں کامیاب کیسے ہونگے ہر دو کو اکٹھا کر کے ایک گلدستہ جس طرح بن جاتا ہے بہت خوبصورت کہ اَوْ يَأْخُذَهُم على تخوف یا وہ انہیں آہستہ آہستہ گھٹا کر ہلاک کر دے۔اور یہ سارا کچھ کیوں کرے؟ اس لیے کہ جو تمہارا رب ہے وہ مومنوں پر بہت ہی شفقت کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے جن مومنوں نے خدا تعالیٰ پر توکل کیا ان کے ساتھ یہ اس کا سلوک ہے اور وہ رب ہے ربوبیت کرتا ہے اور ر بوبیت کے لیے دو چیزوں کی ضرورت تھی۔اس کی شفقت کی اور اس کے رحم کی۔تم نے دیکھا نہیں کن عظیم مظاہروں کے ساتھ اس نے اپنی شفقت کا، اپنے پیار کا بھی اظہار کیا اور اپنی رحمتوں کی بارش بھی کی مسلمانوں پر۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۳۰۶،۳۰۵)