انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 24
تفسیر حضرت علیلة اسبح الثالث ۲۴ سورة لقمن واحد و یگانہ کی رحمانیت کے احسان کا ایک جلوہ دیکھا تھا اور وہ جلوہ تمہیں اپنے والدین کی وساطت سے نظر آیا تھا اس لئے اس پہلے جلوہ کی وجہ سے ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنے والدین کے لئے شکر کے جذبات پیدا کرو کیونکہ اگر تم نے رحمانیت کے اس احسان کے پہلے جلوے کا شکر نہ کیا تو تمہیں گندی عادت پڑ جائے گی اور تم دوسرے احسانوں اور رحمانیت کے جلووں کا بھی شکر ادا نہیں کرو گے پس تم پہلے جلوہ احسان اور جلوہ رحمانیت سے شکر بجالانا شروع کرو اور موت تک اپنا یہ وطیرہ اختیار کرو تم یہ عادت ڈالو کہ جب بھی تمہیں کسی طرف سے خدائے رحمان کا کوئی جلوہ نظر آئے گا تو تم اس شخص کے ممنون ہو جاؤ گے جو اس احسان اور رحمانیت کے جلوہ کا آلہ کار بنا۔اس معنی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص بندوں کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ خدا کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا کیونکہ بندے تو احسان کرنے کے قابل ہی نہیں ہر عطا جو حق سے زائد ہے (ویسے تو حق کے مطابق عطا بھی خدا کی عطا ہے لیکن یہ حصہ میرے مضمون سے تعلق نہیں رکھتا میں اس کی نفی نہیں کر رہا ) وہ پہلے خدا تعالیٰ کی عطا ہے پھر کسی آلہ کی اس مادی دنیا میں، اس عارضی دنیا میں کسی واسطہ کے نتیجہ میں وہ عطا حاصل ہوتی ہے غرض بچے کے دل میں شکر گزار بندہ بنے کی عادت بچپن سے ہونی چاہیے اور استاد کا یہ کام ہے کہ اسلام کی یہ تعلیم بڑی وضاحت سے اس کے سامنے رکھے۔اس مضمون کی ابتدائی بات میں نے اس وقت بتادی ہے اساتذہ باقی باتیں خود دیکھ لیں حقوق اللہ ، حقوق العباد، حقوق نفس اور آفات نفس سے بچنا ان سب باتوں کا ان آیات میں ذکر ہے۔ان سب باتوں کو سامنے رکھ کر ان چند دنوں میں ( گو ہمیشہ ہی یہ ہونا چاہیے ) ان بچوں کی ( گو بعض بڑی عمر کے دوست بھی ہیں لیکن زیادہ تر بچے ہی ہیں) تربیت کرنی چاہیے اور انہیں تعلیم دینی چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے آخر میں بڑے لطیف رنگ میں ہمیں ایک نصیحت کی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے بچو! ( وہاں گو حضرت لقمان علیہ السلام کا واسطہ ہے لیکن مخاطب تو خدا کے سارے ہی بچے ہیں) میں نے تمہارے اور ایک گدھے میں ایک فرق قائم کیا ہے۔گدھا گدھا ہے اور تم انسان کے بچے ہو اس فرق کو بھولنا نہیں اور تم انسان کے بچے اس صورت میں رہ سکتے ہو جب کہ تم اپنے نفس کو نفس کی بدخواہشات سے محفوظ کر لو اور نفس کو نیکی کی باتوں اور فضائل نفس سے آراستہ کر لو اور انوار نفس سے منور کر لو۔اگر تم یہ کر لو گے تو تمہاری آواز میں انسانی دبدبہ اور اثر ہوگا اور اگر تم ایسا