انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 23
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۳ سورة لقمن اور اس طرح آپس میں حقوق اور ذمہ داریاں پیدا ہو گئی ہیں اور اس نے انسان کو کہا ( اور بچے کے ذہن میں یہ بات آنی چاہیے اور بچہ شاید اس عمر میں زیادہ آسانی سے سمجھ سکتا ہے ) کہ اگر میری رحمانیت کے جلوے نہ ہوتے تو تمہارا زندہ رہنا اور تمہارا پرورش پاناممکن نہ ہوتا۔بھلا یہ تو بتاؤ کہ اس کے کس حق کے نتیجہ میں جو اس نے اپنے زور سے پیدا کیا ہو اس کی ماں کی چھاتیوں میں اس کے لئے دودھ اُترا۔ماں اسے گود میں اٹھائے پھرتی ہے میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر میں بھی ایک بچہ ایسا پیدا ہوا کہ پیدائش کے وقت اسے کچھ زخم آگئے تھے ڈاکٹر ( جو ہمارے ماموں ہی تھے ) نے کہا کہ اس بچہ کو پانچ یا سات دن ( مجھے صحیح طور پر یاد نہیں) چار پائی پر بھی نہ لٹانا ورنہ اس کی ہلاکت کسی بڑی سخت بیماری ( مثلاً چاہے وہ زندہ رہے لیکن مفلوج ہو جانے ) کا خطرہ ہے چنانچہ سال سے اس کے عزیزوں نے ، اس سے محبت اور تعلق رکھنے والوں نے کئی دن تک دن اور رات اسے اپنے ہاتھوں پر رکھا۔اب بتا ئیں اس بچہ نے کونسی کمائی کی تھی جس کی اجرت اسے مل رہی تھی ؟ کمائی کا تو ابھی اس پر وقت بھی نہیں آیا تھا اسے تو ہوش ہی نہیں تھی۔رحمانیت کے یہ جلوے احسان کی شکل میں خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایک بچے کے لئے سب سے زیادہ اس کے ماں باپ میں ہمیں نظر آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہاں سورہ لقمان میں جو تعلیم دی ہے اور بچوں کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ دیکھو پیدائش کے دن تم نے رحیمیت کا جلوہ نہیں دیکھا تھا۔تم نے رحمانیت کا جلوہ دیکھا تھا اور رحمانیت کا جلوہ احسان کی شکل میں تمہارے ماں باپ نے دکھایا۔ہر قسم کا احسان رحمانیت کا جلوہ ہے حق سے زائد دینا یا حق نہ ہو اور اسے دینا دونوں رحمانیت کے جلوے ہیں بہر حال یہ فرمایا کہ جہاں بھی تمہیں اپنے اوپر احسان نظر آئے تمہارے لئے توحید کی وجہ سے دو باتوں کا سمجھنا ضروری ہے کہ احسان مخلوق کی طرف سے مجھ پر ہو نہیں سکتا تھا جب تک کہ خدائے واحد و یگانہ مجھ پر احسان نہ کرنا چاہتا۔اس واسطے شکر کا پہلا حقدار اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کے بعد شکر کے حقدار وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمانیت کے اظہار کے لئے اپنا آلہ کار بنایا اور چونکہ احسان کا یہ پہلا جلوہ ہمیں ماں باپ کے طرز عمل اور ان کی خدمت میں نظر آتا ہے اس لئے فرمایا وَ بِالوالِدَيْنِ اِحْسَانًا (البقرة : ۸۴) اس کا یہ مطلب نہیں ہے کوئی اور محسن ہو تو تم نے اس کے احسان کا بدلہ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن : ۶۱) کے ماتحت نہیں دینا بلکہ یہ اس لئے کہا کہ جب تم اس دنیا میں پیدا ہوئے تو تم نے خدائے