انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 25
۲۵ سورة لقمن تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث نہیں کرو گے تو چاہے تم چیختے رہو اور چیخ چیخ کے لوگوں کے کان پھاڑنے کی کوشش کرو تمہاری آواز اور گدھے کی آواز میں کوئی فرق انسانی فطرت محسوس نہیں کرے گی پس اگر تم نے انسان بن کر اسی دنیا میں زندگی گزارنی ہے اگر تم نے انسان کی خصلتوں کو حاصل کر کے گدھے سے اپنے آپ کو ممیز اور ممتاز کر لینا ہے تو تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنے نفس کی آفات کو پہچانتے ہوئے ان سے بچنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ نے نفس انسان کے لئے جو فضائل کے حصول کے مواقع رکھے ہیں ان۔فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ کی نگاہ میں خوبصورت بنو اور اللہ کی نگاہ میں محسن بنو۔وہ حسن جو اللہ کی نگاہ انسان کے اندر دیکھتی ہے اور دیکھنا چاہتی ہے اور وہ احسان جو اللہ کی نگاہ انسان کے اندر دیکھتی ہے اور دیکھنا چاہتی ہے اگر تم نے اس حسن اور اس احسان کا رنگ اپنے اوپر چڑھا لیا تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں گدھا سمجھ کر ذلیل نہیں کرے گی تمہیں گدھا سمجھ کر حقیر قرار نہیں دے گی ،تمہیں گدھا سمجھ کر غیر انسانی سلوک تم سے نہیں کرے گی۔خدا کرے کہ ہم سب اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں انسان بن جائیں اور خدا کرے کہ ہم اس کے فضل سے یہ توفیق پائیں کہ اپنی آئندہ نسل کو بھی انسان کے اس نور سے منور کرنے کی توفیق پائیں کہ جو انسان کو دوسری مخلوق سے ممیز کر دیتا ہے۔(خطبات ناصر جلد ۲ صفحہ ۷۹۰ تا ۷۹۵) صبر کے ایک معنی مصائب کو خدا کی راہ میں برداشت کرنا اور ان پر گھبراہٹ ظاہر نہ کرنا ہے۔اس کے متعلق سورہ لقمان میں فرمایا۔وَاصْبِرُ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ کہ تجھے خدا کی راہ میں جوتنگی و ترشی، دکھ اور مصیبت پہنچے اس پر صبر سے کام لے اور یقیناً یہ بات ہمت والے کاموں میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں ہی کو پسند کرتا ہے جن کے اندر ایک عزم ہوتا ہے جن کے اندر یہ یقین ہوتا ہے کہ میں خدا کے لئے اپنی زندگی گزار رہا ہوں اور جو شخص خدا کے لئے اپنی زندگی کو گزارتا ہے وہ نا کام اور نامراد نہیں ہوا کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی بشارتیں اس کے حق میں پوری ہوتی ہیں اور وہی جماعت آخر کار دنیا میں کامیاب ہوتی ہے جس جماعت کے متعلق خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہو کہ وہ اسے کامیاب کرے گا۔خدا تعالیٰ کا آسمانوں پر یہ فیصلہ ہے اور زمین پر اس فیصلے کا اجراء ہوگا کہ اسلام ساری دنیا میں غالب آجائے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے اس فیصلے کے اجراء کے لئے ایک زمانہ مقرر کیا ہے اور اس