انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 281 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 281

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۲۸۱ سورة الجاثية بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الجاثية آیت ۱۴ تا ۱۶ وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّبُوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ اِنَّ فِي ذَلِكَ لايتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ قُلْ لِلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللَّهِ لِيَجْزِيَ قَوْمَا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ۔مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ آسَاءَ فَعَلَيْهَا ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ عالمین میں جو چیز بھی پائی جاتی ہے اس کے متعلق فرمایا سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّبُوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا منه کوئی استثنا نہیں۔بغیر استثناء کے ہر چیز تمہاری خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے یہ اعلان کیا لیکن یہ نہیں کہ تم سکتے بیٹھ جاؤ ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھے رہو ، اونگھتے رہو، افیم کھانی شروع کر دو، زندگی میں تمہیں کوئی دلچسپی نہ ہو، تم محنت نہ کرو، تم وہ قانون جو فائدہ اٹھانے کے ہیں نہ سیکھو اور مشاہدات تمہارے کمزور ہوں پھر بھی تم اس سے فائدہ اٹھا لو گے اور مخلوق تمہاری خادم بنی رہے گی جہاں ایک طرف یہ اعلان کیا کہ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّبُوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ وہاں دوسری طرف یہ اعلان کیا کہ لَيْسَ لِلإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعى (النجم :۴۰) کہ یہ چیزیں تمہاری خادم تو ہیں لیکن جتنی خدمت تم اپنی محنت سے ان سے لو گے اُتنی خدمت کریں گی اس سے زیادہ نہیں کریں گی۔مغل بادشاہ نے پانچ برس کا پھل دینے والا درخت اپنے حکم سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لگوا دیا اور قانون قدرت جو درختوں اور اُن کی جڑوں اور اُن کے پھیلا ؤ اور ان کو پانی دینے کے متعلق ہے کہ اتنا پانی ملنا چاہیے اور اتنے وقت کے بعد ملنا چاہیے۔غذا اتنی ہونی چاہیے ان سب چیزوں کے متعلق قانون ہے جو اللہ