انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 280 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 280

تفسیر حضرت خلیفہ امسیح الثالث ۲۸۰ سورة الدخان کے جلوؤں میں کوئی تضاد نظر نہیں آئے گا۔اس لئے ہم علی الاعلان عیسائی دنیا جو ابھی قرآن کریم کو سمجھ نہیں سکی اور دوسرے غیر مسلموں کے سامنے یہ اعلان کیا کرتے ہیں کہ جس طرح قرآن کریم میں یہ اعلان ہوا کہ خدا تعالیٰ کی صفات کے جلووں میں تمہیں کوئی تضاد نہیں نظر آئے گا اس لئے اس بات پر بھی ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ وہ جو خدا کا کلام ہے (اور خدا کے جلوے کبھی کلام کی صورت میں بھی ظاہر ہوتے ہیں،اس کی ایک صفت کلام کرنے والے کی بھی ہے ) اس کے کلام میں بھی کوئی تضاد نظر نہیں آئے گا کہ کہیں کچھ لکھا ہو اور کہیں کچھ لکھا ہو۔سارا قرآن کریم شروع سے آخر تک ایک منطقی مجموعہ ہے ہر چیزا اپنی جگہ پر ہے۔کوئی چیز بے موقع نہیں ہے۔کوئی چیز بے مقصد نہیں ہے۔کوئی چیز بے فائدہ نہیں ہے۔کوئی چیز بے غرض نہیں ہے۔ہر چیز اپنی جگہ پر ہے اور وہیں ہونی چاہئے اور تضاد نہیں ہے (Ideas) جو ہیں وہ معانی ہیں قرآن کریم کے وہ ایک دوسرے سے دست بگریبان نہیں ہیں۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۳۸۶ تا۳۸۹)