انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 282 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 282

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۲۸۲ سورة الجاثية تعالیٰ نے بنایا ہے۔اس قانون کو ان بادشاہوں نے سمجھا اور اس کے مطابق اُسے پچاس میل یا دوسو میل دور لے جا کر دوسری جگہ لگوا دیا۔فرقان بٹالین جب کشمیر کے محاذ پر رضا کارانہ طور پر اپنے ملک کی خدمت کر رہی تھی تو ہماری دائیں طرف ایک قلعہ تھا جس کی دیوار میں اس محراب کی اونچائی کے برابر اگر مجھی جائیں تو اس میں تین یا چار پتھر تھے اور وہ پتھر اس علاقہ کے نہیں تھے ہم نے پتہ لیا۔صحیح اور علی وجہ البصیرت تو ہمیں پتہ دینے والے نہیں تھے لیکن جتنا پتہ لگ سکا وہ یہ تھا کہ سینکڑوں میل سے ہاتھیوں کے اوپر اتنے بڑے بڑے پتھر اٹھا کر لائے اور وہاں قلعہ بنا دیا۔وہ دیوار اتنی مضبوط تھی کہ ہندوستان کے ۲۵ پاؤنڈ کے گولے اُس دیوار پر پڑتے تھے۔تو ہلکا سا ارتعاش پیدا ہوتا تھا اور بغیر نقصان پہنچائے دوسری طرف جا کر گر جاتے تھے تو جو اتنے اتنے وزنی پتھر اٹھا کر لے آئے اُن کے لئے درختوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا کیا مشکل تھا۔درخت کی عمر کے مطابق جتنی بڑی گاچ کی ضرورت ہوتی تھی وہ جانتے تھے اور اس طرح وہ درخت پھلدار ہو جاتے تھے۔بادشاہ سلامت واپس آئے تو وہاں باغ لگا ہوا تھا۔پھلدار درخت لگے ہوئے تھے موسم کے مطابق پھل لگے ہوئے تھے ، پھول لگے ہوئے تھے ہر چیز وہاں تھی اور جہاں تک مجھے یاد ہے کم و بیش ایک سال میں یہ سب کچھ ہوا۔پس جو چیز ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ بے شک اس عالمین کی ہر چیز انسان کی خادم ہے لیکن انسان پر اللہ تعالیٰ نے یہ پابندی لگائی ہے کہ محنت سے اپنی عقل کو استعمال کر کے تجربہ حاصل کرنے اور مشاہدہ حاصل کرنے کے بعد قانون قدرت کی اتباع کرتے ہوئے وہ جو کوشش کرے گا اس کا پھل اس کو مل جائے گا۔لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ الا مَا سَعَى وَ أَنَّ سَعْيَه سَوْفَ يُڑی میں یہی حقیقت بیان ہوئی ہے کہ انسان کو اُس کی کوشش کا پھل ملے گا لیکن خدا تعالیٰ نے جس طرح کہا کہ سخر لكم اسی کے اندر یہ مفہوم پایا جاتا ہے کہ ہم نے قانون قدرت اور احکام الہی کی زنجیروں میں باندھ کر ہر شے کو تمہارا خادم بنایا ہے ان قوانین کا علم حاصل کرو۔ان کے مطابق کوشش کرو تو پھل تمہیں ملے گا سوائے اس کے جودوسرا قانون ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ناراض کرو گے تو اللہ تعالیٰ اپنے عام قانون کو تمہارے حق میں استعمال نہیں ہونے دے گا اور درختوں کو کہے گا نہیں اب میرا وہ قانون نہیں چلے گا کیونکہ انہوں نے میرے مقابلہ پر کھڑے ہو کر بغاوت کی ہے اس لئے اب اگر یہ عام قانون کی بھی پابندی کریں گے تب بھی ان کو پھل نہیں ملے گا۔