انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 149
۱۴۹ سورة الزمر تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ہے کہ اللہ تعالیٰ جیسا کہ پہلے اپنی پوری قدرتوں اور غلبہ کے ساتھ تھا، ہے اور آئندہ ویسا ہی رہے گا۔اس میں تو کوئی تبدیلی نہیں نا ہوتی۔ایک تو یہ گروہ ہے اور ایک وہ ہے جو کہتا ہے نہیں۔وعدے تو ہیں، پورے ہوں نہیں ہوں گے یا شک میں پڑ گئے کہ پورے شاید نہ ہوں۔طارق نے جب کشتیاں جلائیں وہ شک میں نہیں پڑے۔انہیں یہ پتا تھا کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے اَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ اِنْ كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (ال عمران :۱۴۰) ان کو فکر اپنے ایمان کی تھی۔ان کو خدا تعالیٰ طرف سے بے وفائی، وعدہ کی بے وفائی کا خوف نہیں تھا۔چونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم اخلاص کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کی محبت میں اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حفاظت میں یہاں آئے ہیں ان کے مخالفانہ منصوبوں کو نا کام کرنے کے لئے ، اس لئے ہمیں کسی مادی دنیوی سہارے کی ضرورت نہیں۔اور پھر چودہ سو سال اور پھر پندرہویں صدی کا جو کچھ حصہ گزرا ہے جنہوں نے یہ سمجھا اور شناخت کیا اور یہ معرفت حاصل کی کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے، پورا کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے اور اس کا جو تقدس ہے جو اس کی طہارت ہے سُبحان اللہ میں جو کیفیت اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہے اپنے وجود کی وہ تقاضا کرتی ہے کہ جو وہ وعدہ کرے وہ پورا کرے۔ہاں اس نے شرط لگائی ہے بندوں پر، ایسا کرو گے میں وعدہ پورا کروں گا۔ایسا نہیں کرو گے تمہارے اندر استحقاق نہیں رہے گا کہ میں وعدہ پورا کروں۔اس کی ذمہ داری بندے پر ہے خدا پر نہیں ہے اور خوف کا مقام ہے۔پھر سورۃ یوسف کی ۴۱ ویں آیت میں ہے۔فیصلہ کرنا اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں۔(بڑے عجیب اعلان ہوئے ہوئے ہیں قرآن کریم میں ) اِنِ الْحُكْمُ إِلا لِلَّهِ اور اس نے حکم دیا ہے جس کے اختیار میں فیصلہ کرنا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔یہی درست مذہب ہے۔خالص توحید۔اعلان کرنا آسان ہے۔عمل کرنا مشکل بھی ہے، آسان بھی ہے۔عمل کر کے جونعماء ملتی ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور فضل نازل ہوتے ہیں ان کا شمار نہیں۔یہ توفیق کہ انسان کا رواں رواں یہ پکار رہا ہو مولا بس۔اللہ کے سوا ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔جو ایسا نہیں سمجھتے ، کچھ بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں کچھ بھروسہ غیر اللہ پر رکھتے ہیں لا یعلمون کے گروہ میں شامل ہو جاتے ہیں یعنی وہ لوگ جولب سے، روحانی پاکیزگی سے ، مومنانہ فراست سے محروم کئے گئے ہیں۔پھر ۲۹ ویں سورۃ کی ۶۵ ویں آیت میں یہ ہے:۔یہ ورلی زندگی صرف ایک غفلت اور کھیل کا